سیکس کی مختلف کیٹگریز کو پسند کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ بی بی سی کی ایک انتہائی معلوماتی رپورٹ ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) دنیا میں جوں جوں تحقیق اور تجربات میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی نئی نئی اور لاتعداد اقسام کی بیماریاں سامنے آ رہی میں اس خبر میں ہم چار ایسی بیماریوں کا ذکر کر رہے ہیں جو سیکس کے مختلف طریقے اختیار کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں
بی بی سی پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ان چار بیماریوں میں سب سے پہلے نمبر پر نائسیریا میننجائٹس ہے جسے ‘میننگوکس’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ بیکٹریا دماغ اور ریڑھ کی ہڈیوں میں انفیکشن کا باعث ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ یہ یوروجینیٹل انفیکشن کے لیے جانا جاتا ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق یہ انفیکشن اس کے حامل ایک شخص سے اس کے ساتھ جنسی فعل میں شامل ہونے والے ساتھی کو اورل سیکس اور دوسری طرح کے جنسی فعل سے ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر پانچ اقسام کے این۔ میننجائٹس دنیا بھر میں ہونے والے جنسی انفیکشن کے لیے ذمہ دار ہیں۔(2) مائکوپلازما جینیٹیلیم دنیا کے سب سے چھوٹے بیکٹریا میں سے ایک ہے اور اس کی وجہ سے جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں دنیا بھر میں شدید تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہیں۔کنڈوم کا استعمال اس انفیکشن کو پارٹنر میں منتقل ہونے سے روکتا ہے۔ طبی محققین ایم جینیٹیلیم کی روک تھا کے لیے ایجیتھرومائسین اور ڈاکسی سائیکلین جیسی اینٹی بایوٹکس دواؤں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔(3) شیگیلا فلیکزینری: اسے طبی دنیا میں ‘شیگلوسس’ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ یہ انسانی فضلے کے براہ راست اور بلاواسطہ رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے۔
اس انفیکشن کے سبب پیٹ میں تیز درد اور ڈائریا کی شکایت ہوتی ہے۔ اور اس طرح یہ بیکٹیریا اپنے انفیکشن کو مزید پھیلاتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ایس۔ فلیکزینری بنیادی طور پر اورل سیکس اور اینل سیکس کے ذریعے پھیلتا ہے۔ دنیا بھر میں اس کے انفیکشن کے معاملے میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔(4) لمفونگرانولوما وینیریم (ایل جی وی): کلیمائڈیا ٹریکومیٹس میں غیر معمولی تناؤ کی وجہ سے جنسی طور پر منتقل ہونے والا یہ ‘خطرناک انفیکشن’ ہوتا ہے۔ ایل جی وی کے انفیکشن کے سبب غیر مستقل مہاسے، اندام نہانی میں السر کی پریشانی ہو سکتی ہے اور یہ بیکٹریا جسم کے گلوٹین نظام پر بھی حملہ آور ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے آنت سے جڑی بیماریاں ہو سکتی ہیں اور یہ پاخانے کی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی سے ایل جی وی یورپ اور شمالی امریکہ میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ بیماری عام طور پر دونوں جنسوں کے ساتھ جنسی فعل کرنے والوں، امرد پرستوں اور ہم جنس پرستوں میں عام ہوتی جا رہی ہے۔(ش س م) (بشکریہ: بی بی سی )
آج کل دنیا بھر میں مردانہ کمزوری کی گولیوں اور کیپسولز کے علاوہ ایک خاص قسم کا آلہ سب سے زیادہ فروخت ہو رہا ہے ، یہ کیا ہے ؟ شرمناک انکشاف