جمال خاشقجی قتل کیس میں تہلکہ خیز پیش رفت : بس یہ کام ہونے کی دیر ہے پھر 30 منٹ کے اندر اندر محمد بن سلمان کا جرم ثابت ہو جائیگا۔۔۔۔۔ ایک خبر نے سعودی شاہی محل کے در و دیوار ہلا دیے

واشنگٹن(ویب ڈیسک) جمال خاشقجی قتل کے حوالے سے امریکی سینیٹر ز نے بند کمرے میں اپنے خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریف کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہمارے نزدیک جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان براہ راست ملوث ہے ۔ہمیں اس کا پختہ یقین ہے ۔

امریکی سینیٹرز کے مطابق اس بات کے امکانات صفر ہیں کہ سعودی ولی عہد اس جرم میں ملوث نہیں ، اور اب امریکہ کو سعودی عرب پر اپنا دباؤ بڑھانا چاہیے۔ ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی تفتیشی ادارے سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل نے امریکی سینیٹرز کے گروپ کو بند کمرے میں صحافی جمال خشوگی کے قتل سے متعلق اہم بریفنگ دی۔اس بریفنگ کے بعد امریکی سینیٹر لنڈزی گراہم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اب انہیں یقین ہو گیا ہے کہ سعودی و لی عہد محمد بن سلمان اپنے خود پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کق قتل کروانے میں کردار ادا کیا ہے ۔ سب کچھ ان کی رضامندی اور احکامات پر ہوا ، ریپبلکن سینیٹر بوب کارکر کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر ولی عہد کیخلاف انکوائری کمیٹی قائم کی جائے تو وہ انہیں 30 منٹ میں مجرم ثابت کر دے گی ۔ ڈیمو کریٹک کے سینیٹر بوب مینڈوز نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کیس میں سعودی عرب کیساتھ سخت رویہ اپنایا جائے اور قتل کے ذمہ داروں کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے تمام تر عالمی قوانین بروئے کا ر لائے جائیں۔ریاست کیرولینا سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر نے سعودی شاہی خاندان کو خبردار کیا کہ وہ جنون میں مبتلا ہیں اور ایک خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں جس جا انجام بہت بھیانک ہونے والا ہے۔(ش س م)