You are here
Home > انٹر نیشنل > سعودی عرب میں ایک لاکھ 30ہزار تارکین کی چھُٹی کرا دی گئی

سعودی عرب میں ایک لاکھ 30ہزار تارکین کی چھُٹی کرا دی گئی

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں گزشتہ چند سالوں سے سعودائزیشن کی پالیسی نافذ کی گئی ہے جس کے تحت مقامی خواتین اور مردوں کو ملازمتوں میں ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ سعودی افراد میں بے روزگاری کی شرح گھٹائی جا سکے۔ سعودی جنرل آرگنائزیشن فار سوشل انشورنس نے کہا ہے کہ 2020 کے دوران

ایک لاکھ 29 ہزار غیرملکی کارکنان نے سعودی لیبر مارکیٹ کو خیر باد کہا ہے۔2019 کے آخر کے حوالے سے تارکین وطن کی تعداد میں دو فیصد کمی ہوئی ہے۔اُردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق 2020 کے دوران لیبر مارکیٹ سے ایک لاکھ 29 ہزارکارکنان کے نکلنے سے غیرملکی کارکنان کی تعداد 6.35 ملین رہ گئی۔سرکاری رپورٹوں میں بتایا گیا کہ 2020 کے دوران لیبر مارکیٹ میں تقریبا 74 ہزار سعودی ملازمین کا اضافہ ہوا ہے۔سعودی شہریوں کی تعداد 2.03 ملین تک پہنچ گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس کی چوتھی سہ ماہی کے دوران لیبر مارکیٹ سے ایک لاکھ 21 ہزار غیرملکی کارکن رخصت ہوئے۔ ان میں سے ایک لاکھ 20 ہزار مرد اور 1632 خواتین تھیں جبکہ 2020 کی آخری سہ ماہی میں 18 ہزار سعودی لیبر مارکیٹ سے رخصت ہوئے اور 18 ہزار سعودی خواتین لیبر مارکیٹ سے منسلک ہوئی ہیں۔سرکاری اداروں سے دولاکھ 81 ہزار سعودی کارکن منسلک ہوئے جبکہ نجی اداروں میں ان کی تعداد 1.75 ملین ریکارڈ کی گئی۔74 ہزار غیرملکی سرکاری اداروں میں کام کررہے ہیں جبکہ نجی اداروں میں ان کی تعداد 6.28 ملین ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق سوشل انشورنس سے منسلک ہونے والے نئے سعودیوں کی عمریں بیس سے چوبیس برس کے درمیان ہیں۔ سعودیوں میں بیشتر اسامیاں انجینیئرنگ کے معاون پیشوں کے حوالے سے اختیار کی ہیں۔ انجینیئرنگ کے بعد دفتری پیشوں اور پھر سائنس، تکنیکی، انسانی اور سیلز کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔


Top