ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی خواہش! جوبائیڈن کی کامیابی کی صورت میں اسرائیل کا کیا حشر ہوسکتا ہے؟ خدشے کا اظہار کر دیا گیا

اسرائیل (نیوز ڈیسک) جوبائیڈن کے صدر بننے کی صورت میں اسرائیل اور ایران میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔اس بات کا خدشہ اسرائیلی وزیر کی جانب سے کیا گیا ہے۔

اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر نے خبردار کیا ہے کہ ڈیموکریٹ امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی کامیابی کی صورت میں اسرائیل اور ایران کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔

وزیر آباد کاری ذاکی ہانجبی کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن نے طویل عرصے سے کہہ رکھا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی جانب واپس جائیں گے اگر جو بائیڈن اسی پالیسی پر قائم رہتے ہیں تو اسرائیل اور ایران کے درمیان پرتشدد تصادم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نتین یاہو سمیت زیادہ تر اسرائیلی 2015 کے معاہدے کو ایک غلطی کی طور پر دیکھ رہے ہیں تاہم جو بائیڈن کی فتح کے بارے میں ایک اور اسرائیلی وزیر کی رائے مختلف ہے۔

امور خارجہ اور دفاعی کمیٹی کے چیئرمین زوی ہوورز کا کہنا ہے کہ جب جوبائیڈن امریکہ کے نائب صدر تھے تب سے وہ جوہری معاہدے سے متعلق ان کے موقف کو جانتے ہیں۔

انہوں نے جو بائیڈن کو اسرائیل کا حقیقی دوست قرار دیا اور کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ایران جوہری معاہدے کی تجدید ہوتی ہے تو یہ پچھلے معاہدے سے بہتر ہوگا۔

دوسری جانب ریکا میں جاری صدارتی انتخاب کے دوران ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے میں تاخیر کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق خبر رساں اداروں کے مطابق شکاگو، ڈینور، لاس اینجلس، منی ایپلس، نیو یارک، فلاڈیلفیا، پٹسبرگ، سیاٹل اور واشنگٹن ڈی سی میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے حامیوں نے مختلف مقامات پر مظاہرے شروع کردی۔

ٹرمپ کے حامیوں کا مطالبہ ہے کہ ووٹوں کی گنتی فورا روکی جائے کیونکہ یہ عمل دھاندلی زدہ ہے، جبکہ دوسری جانب جو بائیڈن کے حامی یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ووٹوں کی گنتی کسی صورت نہ روکی جائے۔