فرانسیسی صدر نے ایسا قدم اُٹھا لیا کہ اُمت مسلمہ غصے سے آگ بگولہ ہوگئی

پیرس(نیوز ڈیسک) فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا ہے کہ فرانس کے 60 لاکھ مسلمان اپنا الگ معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں، انہیں روکنے کے لیے سخت قوانین وضع کیے جانے چاہئیں، میکرون نے اپنا چار نکاتی پلان بھی پیش کردیا۔ فرانسیسی مسلمانوں نے میکرون کے پلان کو مسلمانوں پر کریک ڈاؤن قرار دیا۔تفصیلات کے

مطابق فرانس کی سرزمین ایک بار پھر مسلمانوں پرتنگ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں، فرانسیسی صدر میکرون نے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کا پلان پیش کردیا۔پیرس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ فرانس کے ساٹھ لاکھ مسلمان اپنا ایک الگ معاشرہ اپنے قوانین کے تحت بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فرانسیسی مسلمانوں کو علیحدگی پسند قرار دے دیا۔اس موقع پر میکرون نے اپنا چار نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا جس کے تحت غیر ملکی اماموں اور مساجد کی فنڈنگ کے ساتھ ساتھ گھر پر تعلیم و تربیت پر بھی پابندی لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔فرانسیسی مسلمانوں نے میکرون کے پلان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن قرار دیا ہے۔نیا قانون پاس ہونے کی صورت میں مسلمان خواتین گھر سے باہر حجاب نہیں لے سکیں گی جبکہ کئی دیگر مذہبی عقائد پر بھی قدغن لگ جائے گی۔