Categories
انٹر نیشنل

کورونا نے ملکی معیشت کی کمر توڑ دی۔۔!! لاکھوں ملازمین کو فارغ کرنے کا امکان، وزیراعظم نے فیصلہ کرلیا

لندن (ویب ڈیسک) برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کورونا لاک ڈائون سے متاثر ہ افراد کی مدد کے لئے نئے اصول وضع کرنے کا عندیا دے دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ حکومت تمام لوگوں کی نوکریوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی البتہ اے لیول کے علاوہ بے روزگار ملازمین کی مدد جاری رکھیں گے۔

لیبر نے دوبارہ وزیر اعظم بورس جونسن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمال مشرقی انگلینڈ میں حکومت اپنی پابندیوں کے بارے میں الجھن میں دکھائی دے رہی ہے۔ لیبر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نا اہل ہیں جب کہ لیور پول ، لیڈز اور مانچسٹر شہر کے قائدین نے خبردار کیا ہے کہ بڑی حد تک بے روزگار اور، بڑے پیمانے پر مارکیٹ میں ناکامی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی لاک ڈاؤن قوانین میں ترامیم نہ کی جائے، مسائل پر قابو پانا مشکل ہے ۔ کورونا لاک ڈائون کی روشنی میں سیکریٹری تعلیم گیون ولیمسن سے کہا گیا کہ لاک ڈاؤن مسائل پر گرفت حاصل کریں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یونیورسٹی اور کالج یونین بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں طلباء کو یونیورسٹی کی رہائش گاہ میں بند کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب خطرے کے درجہ کو تین سے بڑھا کر چار کر دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ چوتھے درجے کا مطلب ہے کے سماجی دوری کی اصول اپنایا جائے۔ جس کے بعد پانچواں درجہ آنے کی صورت میں پھر سے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے برطانیہ میں حکومت کے سب سے بڑے سائنسی مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت کوئی مزید اقدامات نہیں کرتی تو اکتوبر کے وسط تک کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد پچاس ہزار یومیہ تک پہنچ سکتی ہے۔