مہاتیر محمد کے استعفے کے بعد ملائیشیا میں نیا تنازع۔۔!! مہاتیر محمد کو دھوکہ دینے والے وزیراعظم اپنے انجام کو پہنچ گئے

کوالامپور (ویب ڈیسک) ملائیشیا کے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت تشکیل دینے کے لیے انہیں اراکین پارلیمنٹ کی مطلوبہ تعداد کی حمایت حاصل ہوگئی ہے جبکہ وزیراعظم محی الدین نے تنقید کرتے ہوئے اس کو اندھے اقدامات قرار دیا۔خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق کوالالمپور

میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انور ابراہیم نے کہا کہ حکومت تشکیل دینے اور محی الدین کو باہر کرنے کے لیے اب مطلوبہ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ ملائیشیا میں 2018 میں سابق وزیراعظم مہاتیر محمد اور انور ابراہیم کی اتحادی حکومت بننے کے بعد سیاسی طور پر کشیدگی ہے اور رواں برس یہ اتحاد ٹوٹ گیا تھا اور مہاتیر محمد نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ محی الدین یاسین نے کرپشن کے الزامات کے باعث شکست کھانے والی سابق حکمران جماعت یونائیٹڈ مالے نیشنل آرگنائزیشن (یو ایم این او) کے ساتھ اتحاد قائم کرکے حکومت بنائی تھی اور وزیراعظم بن گئے تھے۔ انور ابراہیم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘پارلیمنٹ میں ہمیں واضح اکثریت حاصل ہے اور محی الدین یاسین کی قیادت میں حکومت گر چکی ہے’۔ تاہم انہوں نے حمایت کرنے والے اراکین اور جماعتوں کی تفصیلات نہیں بتائیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں 222 اراکین کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ ملائیشیا کے بادشاہ کسی بھی امیدوار کی جانب سے پارلیمنٹ میں اپنی برتری ثابت کرنے پر ملک کا وزیراعظم مقرر کرتے ہیں۔ انور ابراہیم نے کہا کہ بادشاہ کی علالت کے باعث طے شدہ ملاقات مؤخر کردی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ملائیشیا کے سابق وزیر داخلہ محی الدین یاسین نے رواں برس یکم مارچ کو مہاتیر محمد کے استعفے کے بعد ملک کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا جبکہ سابق وزیر اعظم نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ مہاتیر محمد اور محی الدین نے 2016 میں نئی جماعت برساتو تشکیل دی تھی جس نے مہاتیر کے استعفے کے بعد یونائیٹڈ مالے نیشنل آرگنائزیشن (یو ایم این او) کے ساتھ اتحاد کرکے اقتدار سنبھال لیا تھا۔