ناقابل یقین خبر

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کےپاس شامی صدر بشار الاسد کو زندگی سے محروم کرنے کا موقع موجود تھا لیکن انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا۔امریکی ٹی وی کوٹیلی فونک انٹرویومیں ڈونلڈٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایساآیا تھا کہ جب شامی صدران

کے نشانے پر تھے لیکن اس وقت کے وزیر دفاع جیمس میٹس نے ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر کوئی پشیمانی نہیں ہے۔واضح رہے کہ امریکی ٹی وی پر صدر ٹرمپ کا یہ انٹرویو اسرائیل، امارات اوربحرین کےدرمیان باقائدہ معاہدہ ہونے سے چند گھنٹے قبل نشرکیا گیا تھا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر دستخط کردیے، اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔وائٹ ہاوس میں منعقدہ اس تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ”ان معاہدوں سے پورے خطے میں جامع امن کے قیام کی بنیاد پڑے گی۔” اس موقع پرصدر ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبد الطیف الزیانی بھی موجود تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے ان معاہدوں کو خوش آمدید کہا کہ ‘یہ دن تاریخی طور سے بہت اہم ہے، یہ امن کے ایک نئے آغاز کی علامت ہے۔‘نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اس معاہدے سے ‘عرب۔اسرائیلی تصادم اب ہمیشہ کے لیے ختم‘ ہوسکتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس پیش رفت میں مزید توسیع ہوگی اور دیگر عرب ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔تاریخ کا دھارا بدل جائے گااس موقع پر موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے ‘امن کا انتخاب کرنے اور فلسطینی علاقوں کو صیہونی ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے کو روک دینے‘ کے لیے نیتن یاہو کا ذاتی طورپر شکریہ ادا کیا۔