نفرت پھیلانے کا انجام بُھگتو۔!! فیس بک نے سینئر بی جے پی رہنما پر پابندی لگا دی

نئی دہلی (ویب ڈیسک) فیس بک نے تشدد اور نفرت کو ابھارنے پر بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر سیاستدان کا اکاؤنٹ بند کر دیا۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پالیسی “خطرناک افراد اور تنظیموں ‘

کے تحت بی جے پی کے رہنما راجہ سنگھ کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ چند روز قبل بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک کی بھارتی ٹیم ملک کی حکمران جماعت کی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے اس لیے پارلیمانی پینل اس حوالے سے تحقیقات کرے۔ کانگریس نے وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی مواد کو دیکھنے والے فیس بک اور واٹس ایپ کے ملازمین نے کمپنی کے کمرشل مقاصد کو تحفظ پہنچانے کے لیے فیس بک پر نفرت انگیز تبصرے کرنے والے وزیراعظم نریندرا مودی کی جماعت کے ارکان اسمبلی کے خلاف ایکشن لینے سے انکار کیا ۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ فیس نے تبصرے ڈیلیٹ کر دیے مگر ان افراد کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اس سے قبل بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی ذاتی ویب سائٹ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ اور موبائل ایپ جمعرات کی صبح ہیک کی گئی جس کی ٹوئٹر کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے نریندر مودی کے اکاؤنٹس سے ٹوئٹس بھی کیں جن میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے وزیراعظم ریلیف فنڈ میں چندہ دینے کی اپیل کی گئی۔ بھارتی وزیراعظم کا اکاؤنٹ ہیک ہونے پر ٹوئٹر کا کہنا ہےکہ اس معاملے کی فوری طور پر تحقیقات کی جارہی ہیں اور اکاؤنٹ کومحفوظ بنانے کے لیے اقدامات اٹھالیے گئے ہیں۔ بھارت میڈیا کے مطابق نریندر مودی کی ذاتی ویب سائٹ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ ’نریندرمودی ڈاٹ اِن‘ کے 2.5 ملین فالوورز ہیں اور یہ اکاؤنٹ 2011 میں بنایا گیا تھا۔