امریکا سے ڈگری لینے والی سعودی خاتون کا انوکھا فیصلہ۔۔۔!!! ’موچی‘ کی دُکان کھول کر راتوں رات دولت اور شہرت کمانے میں کامیاب، مگر کیسے ؟ جانئے

ریاض(ویب ڈیسک) دُنیا کا کوئی بھی پیشہ کمتر اور گھٹیا نہیں ہوتا، کیونکہ تمام پیشے کسی نہ کسی انسانی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر ہی وجود میں آئے ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں بہت سے لوگ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت سے کاموں اور پیشوں کو معمولی سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور انہیں

اختیار کرنے کو اپنی ہتک خیال کرتے ہیں۔مگر ایک سعودی خاتون نے موچی کا پیشہ اپنا کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ سعودی اخبار المرصد کے مطابق امریکا سے دیہی و بلدیاتی امور میں ماسٹرز کی ڈگری لینے والی شیخہ البازی نے کوئی اچھی ملازمت کرنے کی بجائے سعودی عرب میں ہی جوتوں اور پرس کی مرمت کا کام شروع کر دیا ہے۔ سعودی تاریخ میں البازی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے موچی کے پیشے کو اپنا ذریعہ معاش بنایا ہے۔شیخہ البازی نے بتایا کہ انہیں اپنے اس پیشے پر فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ایک بار ان کے جوتے کی ایڑی ٹوٹ گئی۔ اپنے من پسند جوتے کی مرمت کے لیے انہوں نے آن لائن سرچ کیا تو پتا چلا کہ ایسا ممکن ہے۔ جب وہ اس دُکان پر جوتا واپس لینے گئیں تو انہیں انتہائی قیمتی اور برانڈز والے جوتے بھی مرمت کے بعد بہترین حالت میں نظر آئے۔جس کے بعد انہیں خیال آیا کہ اکثر خواتین اپنے قیمتی جوتے مرمت نہ ہونے کے خیال سے پھینک دیتی ہیں۔ اگر وہ یہی کام سعودی عرب واپس جانے کے بعد شروع کریں تو اس کے کامیاب ہونے کے کافی امکانات موجود ہیں۔ سو واپس آ کر انہوں نے’لاذرسبا‘ کے نام سے برانڈڈ اوراعلیٰ کوالٹی کے جوتوں اور پرس کی مرمت کی دُکان کھول رکھی ہے۔ انہیں اپنے اس کاروبار سے بہت منافع ہو رہا ہے۔ البازی نے کہا کہ صرف ڈگری لینا ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ آپ کے پاس اگر نئے آئیڈیاز ہوں تو آپ کوئی بھی کام شروع کر کے کامیابی سمیٹ سکتے ہیں۔