آیا صوفیہ کے بعد طیب اردگان کا ایک اور میوزیم کو مسجد بنانے کا اقدام ۔۔۔ مگر اس میوزیم سے عیسائیت کے نقوش مٹانے کے لیے کیا کرنے کا فیصلہ ہو گیا ؟ جان کر عیسائی دنیا میں کھلبلی مچ گئی

انقرہ (ویب ڈیسک) استنبول کے آیا صوفیہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے ترک صدر کے اقدامات پر شدید نقید سامنے آئی۔ اب ایردوآن حکومت ’کورا میوزیم‘ کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سے مورخین اور مسیحی برادری سہم گئی ہے ۔ رجب طیب ایردوآن کے ایماء پر

گزشتہ جولائی میں آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اب استنبول کے ایک اور تاریخی میوزیم پر ایردوآن کی نظر ہے۔ گزشتہ ہفتے ترک صدر کے محل سے جاری ہونے والے ایک فرمان میں کہا گیا کہ جلد ہی ‘کورا میوزیم‘ میں مسلم عبادات کی جاسکیں گی۔ ساتھ ہی استنبول کے ضلع فاتح میں واقع مقدس عمارت کو ترکی کے دفتر برائے مذہبی امور’ دیانت‘ کی انتظامیہ کے ماتحت کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔’کورا میوزیم‘ کی تاریخ عالمی ثقافتی ورثے آیا صوفیہ سے مماثلت رکھتی ہے۔ یہ قرون وسطیٰ کا یونانی آرتھوڈوکس چرچ ہے۔ اسے 6 صدی میں بازنطینیوں نے تعمیر کیا تھا۔ بعدازاں عثمانیہ دور میں اسے 1496ء میں گرینڈ وزیر اتیک علی پاشا نے مسجد میں تبدیل کرنے کا تعمیراتی کام شروع کروایا تھا جسے 1497ء میں سلطان بایزیت دوم نے تکمیل کو پہنچایا۔1945ء میں ترک جمہوریہ کی کابینہ نے اسے ایک سیکولر مقام قرار دیتے ہوئے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا تھا۔’کورا میوزیم‘ اپنی تزئین و آرائش اور خوبصورت موزیک کی سجاوٹ کی وجہ سے بہت مشہور اور پسند کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور شائقین اس کے مسجد میں تبدیل ہونے سے پہلے اس تاریخی عمارت کا نظارہ کر لینا چاہتے ہیں۔ خدشات پائے جاتے ہیں کہ اس عمارت کی سجاوٹ کی بہت ساری چیزیں اس کے مسجد بن جانے کی وجہ سے پردے سے ڈھانپ دی جائیں گی۔ کورا میوزیم کا ‘غلط استعمال‘ ترکی میں مذہبی رسہ کشی اور کشیدگی میں اضافے اور گڑے مردے اکھیڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔

آیا صوفیہ کا واقعہ ابھی تازہ ہے۔ اس پر ترکی کے آرتھوڈوکس کرسیچن برادری اور قسطنطنیہ کے ‘پیٹریارک بارتھیلومیا‘ برادری نے آیا صوفیہ کو بطور مسجد استعمال کرنے کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا اور اب ‘کورا میوزیم‘ کے معاملے میں بھی سخت رد عمل سامنے آنے کے قوی امکانات ہیں۔ ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایسو سی ایشن آف گریک فاؤنڈیشن کے صدر لاکی ونگاس کا کہنا تھا،”ثقافتی دارالحکومت استنبول جیسے شہر کے ثقافتی تنوع پر سوال اٹھنا اچھا نہیں۔‘‘لاکی ونگاس نے ترکی کی موجودہ حکومت کے بے باک فیصلوں اور ان کے عدم سمجھوتے کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس سے ترکی میں آباد اقلیتوں سے بیگانگی کو مزید تقویت ملے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے نوجوان اس وقت نوکریوں کی تلاش میں بیرون ملک آ رہے ہیں ان کا تعلق اقلیتوں سے ہے۔ ہنگاس نے ڈی ڈبلیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا،”گزشتہ پندرہ برسوں میں یونان سے بہت سے باشندے نوکریوں کی تلاش میں ہمارے شہر میں آکر آباد ہوئے ہیں، انہوں نے خود کو یہاں ضم کیا، یہاں کی معاشرتی زندگی میں حصہ لیا ہے۔ اب یہ وطن واپسی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ یہ میرے لیے بہت پریشان کن بات ہے۔‘‘آرٹ کے ایک ترک مورخ عثمان ایردن کا ماننا ہے کہ ایردوآن حکومت کے یہ منصوبے ماضی کے ‘باسپورس میٹروپول‘ کی تاریخ سے روگردانی ہے۔ عثمان کے بقول’آیا صوفیہ ہو یا کورا میوزیم، انہیں تبدیل کر کے مسجد بنانے کا مقصد یہ ہے کہ ماضی کو مکمل طور سے بھلا دیا جائے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں کبھی بھی سلطنت عثمانیہ یا دین اسلام کی مخالفت نہیں کی گئی تھی۔ مورخ عثمان ایردن کو اس بارے میں شدید تشویش ہے کہ استنبول کی تاریخ میں ہمیشہ اس شہر کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔