ترک کر نسی مستحکم ہونا شروع، لوگوں نے دھڑا دھڑ ڈالر دے کر ترکش لیرا خریدنا شروع کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ترکی پرقدرت مہربان ہو گئی ہے، ترکی میں گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں ،ترکی کی کرنسی تیزی سے مضبوط ہوتی جا رہی ہے، بعض جگہوں پر تو لوگوں نے ڈالر دے کر لیرے خریدنا شروع کر دیئے ہیں۔سینئر کالم نگار مظہر برلاس نے کہا ہے کہ امریکہ

نے ایک مرتبہ پھر جنگوں کا رخ مسلم دنیا کی طرف موڑا ہے مگر اس مرتبہ نتائج مختلف ہوں گے کیونکہ اس مرتبہ روس، چین، پاکستان، ترکی اور ایران ایک بلاک بن چکے ہیں۔بڑے امریکی اتحادی بھارت کو بھی یہ خطرہ ہے کہ اگر اسلامی دنیا کی چوہدراہٹ پاکستان یا ترکی کے پاس آ گئی تو پھر کشمیر کیا باقی ہندوستان کو سنبھالنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ چین کی خواہش ہے کہ اسلامی دنیا کی سربراہی اس کے عظیم دوست پاکستان کے حصے میں آجائے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ترک صدر نے قوم کو جمعے کی نماز کے بعد خوشخبری دینے کا اعلان کیا تھا اورجمعہ کے روزانہوں نے جامع مسجد سلطان میں نماز ادا کی۔نماز کی ادائیگی سے قبل وہ صحابی رسول ﷺ حضرت ایوب انصاریؓ کی قبر پر پہنچے اور فاتحہ خوانی کی۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد قوم سے خطاب میں ترک صدر طیب اردوان نے اعلان کیا کہ بحیرہ اسود میں ترکی کے ساحلی علاقے کے قریب قدرتی گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 20 جولائی کو بحیرہ اسود میں فاتح جہاز کو تونا ون زون میں ڈرلنگ کے دوران 320 ارب کیوبک میٹر گیس کے وسیع ذخائر ملے ہیں۔صدر کا کہنا تھا کہ 2023 تک اس مقامی گیس کا استعمال شروع کر دیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بحیرہ اسود کے اس علاقے میں مزید بھی گیس کے ذخائر ملنے کا امکان ہے اور ابھی دریافت ہونے والا ذخیرہ وہاں موجود خزانے کا صرف ایک حصہ ہے۔ترک صدر کے اعلان کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔دوسری جانب ترک حکام کا کہنا ہے کہ ترکی میں ملنے والے گیس ذخائر کا تخمینہ 65 ارب ڈالرز ہے اور مزید ذخائر نہ ملنے پر 7 سے 8 سال تک یہ ملکی ضروریات پوری کرسکیں گے۔خیال رہے کہ ترکی قدرتی گیس اور تیل کے لیے روس اور ایران پر انحصار کرتا ہے جس کے باعث کثیر زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔