بریکنگ نیوز: ’’اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال نہیں کریں گے۔۔‘‘ وزیراعظم نے دوٹوک اعلان کر دیا

رباط (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار کرنے کے بعد مراکش کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال نہیں کرے گا۔ روسی خبر رساں ادارے کے مطابق مراکش کے وزیراعظم سعد الدین العثمانی نے حکمراں جماعت انصاف اور ترقی کے

ارکان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مراکش،اسرائیلی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا سخت اور بھرپور مخالف ہے۔مراکش کے وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی وجہ سے فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و ستم میں اضافہ ہوگا اور اسرائیل کو مزید عرب علاقوں پر قبضہ کرنے کا موقع ملے گا۔ واضح رہے کہ مراکش نے 2000 میں فلسطینی انتفاضہ کے بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو منقطع کردیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے تعلقات کے قیام کی دنیا کے بیشتر اسلامی ملکوں اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے شدید مذمت کی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے بعد مراکش کے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے والے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات قائم کرنے کے معاہدے کے بعد ایک اور عرب ملک مراکش کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے والی اگلی عرب ریاستوں میں سے ایک ہونے کا امکان ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے بعد مراکش کے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے والے ہیں۔ امریکی اہلکاربھی مراکش کو ایک امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ مراکش کے پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ سیاحتی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ مراکش نے 1975 میں اسپین کے مغربی صحارا سے دستبردار ہونے کے بعد اس کے بڑے حصوں پر قبضہ کرلیا تھا اور ان علاقوں کو اپنے ملک ساتھ منسلک کردیا تھا جس کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔