امارات کیجانب سے اسرائیل کو تسلیم کرلیا گیا۔!! اب عرب دنیا میں پسِ پردہ کیا منصوبہ بن رہا ہے؟ اسرائیلی اخبار نے عبرانی زبان میں کالم شائع کر دیا

دبئی (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے جب پچھلے ہفتے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تو مسلم دنیا میں کئی طرح کا ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ کسی نے اسے فلسطینیوں کے ساتھ دھوکہ کہا تو کوئی اسے تاریخی معاہدہ قرار دیتا رہا اور باخبر حلقوں نے دونوں ریاستوں کے تعلقات میں ’نارملائزیشن‘ کو ’فارملائزیشن‘ کے طور پر دیکھا۔

اسرائیل اور عرب امارات کے باضابطہ سفارتی تعلقات کا معاہدہ اس قدر سادہ معاملہ نہیں۔ بلکہ اس معاہدے کے بعد خطے میں ایک اور جنگ کے ساتھ ساتھ کئی مسلم ریاستوں میں عرب بالادستوں کے ذریعے فوجی بغاوت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیل کے عرب دنیا کے ساتھ تعلقات اور خفیہ اتحاد تو پرانی بات ہے، لیکن اب یہ تعلقات باضابطہ اور علی الاعلان ہو رہے ہیں اور یقینی طور پر اس کے بھی کئی عوامل ہیں۔ سب سے پہلا محرک عرب بادشاہتوں کا خوف ہے جو عرب بہار کے دوران پیدا ہوا۔ عرب بہار کے دوران بادشاہتوں کو اندازہ ہوا کہ پولیٹیکل اسلام ان کے لیے بڑا خطرہ ہے، اور جبر اور کرپشن کے خلاف کوئی بھی مقبول تحریک ان کی بادشاہتوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہاں تک کہ امریکا جیسی عالمی طاقت بھی اپنے کٹر اتحادی حسنی مبارک کو ایسی تحریک میں کوئی مدد نہ فراہم کرسکی اور اخوان المسلمین کی مقبول تحریک نے اس کا تختہ الٹ دیا۔ پھر اس دوران تیونس، سوڈان سمیت کئی مثالیں ابھر کر سامنے آئیں۔ عرب بہار کے بعد خطے میں سیکیورٹی صورتحال بھی بدلنے لگی۔ امریکا کوشش کے باوجود شام کے صدر بشارالاسد کو ہٹانے میں ناکام رہا۔ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد بھی امریکا نے سعودی عرب کی مدد کے لیے کوئی فوجی قدم نہ اٹھایا۔ عرب بادشاہتیں جو اپنی بقا کے لیے امریکا اور یورپی اتحادیوں پر عشروں سے انحصار کرتی آئی ہیں انہیں احساس ہوا کہ اب یہ اتحادی شاید ان کے کام نہ آسکیں۔

ایران نے خطے میں پراکسی جنگ تیز کی اور اسے لبنان، شام اور عراق سے بڑھا کر یمن تک لے گیا، جس کے بعد عرب بادشاہتوں کو خطرے کا احساس بڑھ گیا۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے نے عرب ریاستوں میں خوف پیدا کردیا تھا اور انہیں لگا کہ واشنگٹن اب ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے عزم سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور ایران کو صرف پابندیوں کے بوجھ تلے دبا کر رکھنا چاہتا ہے۔ امریکا کے مقابلے میں اسرائیل کی ایران مخالفت میں رتی بھر بھی کمی نہیں آئی۔ اسرائیل ان تمام عرب ریاستوں کو یقین دلاتا رہا ہے جن کے اس سے تقریباً 60 کی دہائی سے خفیہ تعلقات ہیں کہ وہ ایران کے مقابلے میں ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔ عرب ریاستیں جو بظاہر اسرائیل کی مخالف اور فلسطینیوں کی ہم نوا تھیں، خفیہ رابطوں میں اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاملات میں عملی تعاون کرتی رہیں، اور اسی تعاون کے نتیجے میں لبنان اور شام میں اسرائیل ایرانی مفادات پر بمباری کرتا رہا اور ایران کی جوہری تنصیبات اسرائیلی حملوں کی زد میں رہیں۔ اسرائیل عرب تعلقات ایک عرصے تک خفیہ رہے لیکن 2009ء میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے خفیہ تعلقات کو منظرِ عام پر لانے کی پالیسی اپنائی۔ جس کے بعد تعاون کے چھوٹے چھوٹے سفارتی اقدامات چلتے رہے، اور پھر بڑا قدم اسرائیل نے اس وقت اٹھایا جب انٹرنیشنل رینیوبل انرجی ایجنسی کے ہیڈکواٹرز عرب امارات میں بنانے میں سفارتی مدد کی، لیکن اس کے بدلے ایک شرط یہ رکھی کہ اس کے سفارت کاروں کو ان کے ہیڈکوارٹرز میں تسلیم کرنا پڑے گا۔

2015ء میں اسرائیل نے ایجنسی ہیڈکوارٹرز میں سفارتی مشن کھولا تو یوں عرب امارات میں اسرائیل کا پہلا سفارتی دفتر بن گیا۔ اس طرح ایک ایک قدم اٹھاتے ہوئے اب پورا جال بن چکا ہے۔ یہ اوباما دور کی بات ہے جب خلیج میں امریکی فوجی موجودگی کم ہونا شروع ہوئی جسے ٹرمپ نے بھی جاری رکھا، ان حالات میں اسرائیل عرب ریاستوں کا فطری اتحادی بنتا چلا گیا جو خطے میں موجود ہے اور وہاں سے نکل نہیں سکتا۔ عرب ریاستوں نے ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ تعاون جاری رکھا لیکن فلسطین کے مسئلہ پر بھی مؤقف برقرار رکھا۔ اسرائیل اس سے بالکل بھی بددل نہ ہوا اور عربوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے متعلق کام جاری رکھا۔ اس کی ایک مثال واشنگٹن میں ہونے والی ایک تقریب ہے، جہاں سعودی سفارت کار نے اسرائیلی ہم منصب سے کہا کہ وہ مسئلہ فلسطین حل کریں تاکہ اسرائیل عرب علاقائی تعاون کو آگے بڑھایا جاسکے۔ جس پر اسرائیلی سفارت کار کے ماتھے پر کوئی شکن نہ آئی اور اس نے جواب دیا کہ خطے میں تبدیلی کی چابی فلسطینیوں کے ہاتھ میں کیوں دیتے ہو؟ اسرائیل نے برسوں عرب ریاستوں کے ساتھ تعاون کو چھپانے کی کوشش کی تاکہ تعاون کرنے والی ریاستوں میں عوام حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوں لیکن نیتن یاہو نے پالیسی بدل دی۔ امریکا میں ٹرمپ کے صدر بنتے ہی حالات نے مزید پلٹا کھایا اور ٹرمپ نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اپنے داماد جارڈ کشنر کو ذمہ داری سونپ دی۔ جارڈ کشنر نے عرب شہزادوں کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کیے، ڈیل آف دی سنچری کے نام سے منصوبہ تیار ہوا، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم کے ساتھ کھڑے ہوکر اس منصوبے کا اعلان کیا تو عرب امارات اور بحرین کے نمائندے بھی وائٹ ہاؤس کے ایسٹ

روم میں موجود تھے۔ ٹرمپ کے منصوبے کو عرب عوام میں پذیرائی نہ ملی لیکن عرب نمائندوں کی موجودگی پر احتجاج بھی نہ ہوا، جس نے عرب حکمرانوں کو حوصلہ دیا۔ بظاہر تو عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان اچانک ہوا لیکن اس پر کام ڈیڑھ سال سے جاری تھا اور 2 ماہ پہلے یہ معاہدہ طے پاچکا تھا، جسے صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے انتخابات کے لیے محفوظ رکھا گیا۔ عرب امارات نے یہ اعلان امریکی صدارتی انتخاب سے 82 دن پہلے کرکے ٹرمپ کو خارجہ پالیسی محاذ پر ایک تحفہ دیا۔ جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم نے بھی انتخابات کے دوران ڈیل آف دی سنچری کے اعلان کا بدلہ چکا دیا۔ 2 ماہ پہلے معاہدے یا ڈیل کا ثبوت یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نے غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی تاریخ یکم جولائی دی تھی لیکن یکم جولائی آکر گزر گئی اور اسرائیلی وزیرِاعظم نے منصوبے پر عمل روک دیا اور اس کی وضاحت بھی پیش نہیں کی۔ امریکیوں نے غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا پتہ بہت ہوشیاری سے کھیلا اور غرب اردن پر قبضہ روکنے کی ہامی بھر کر امارات سے ڈیل کرلی۔ اس ڈیل میں امارات کے واشنگٹن میں سفیر یوسف العتیبہ اور ان کے یہودی دوستوں نے اہم کردار ادا کیا۔ یوسف العتیبہ نے جون میں اسرائیلی اخبار میں ایک کالم عبرانی زبان میں شائع کرایا، جس کی اشاعت میں بااثر امریکی یہودیوں نے کردار ادا کیا۔ اس کالم میں کہا گیا کہ اسرائیل غرب اردن پر قبضے اور عرب دنیا سے تعلقات میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے۔ یہ پیغام اسرائیل کے شدت پسند یہودیوں کے لیے امریکا کے لبرل یہودیوں کی طرف سے تھا۔ اس پیغام نے اثر دکھایا اور جون کے اختتام پر یوسف العتیبہ نے وائٹ ہاؤس میں جارڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی مندوب ایوی برکووٹز سے رابطہ کیا اور یہی تجویز ان کے سامنے رکھی کہ اسرائیل غرب اردن کو ضم کرنے کا منصوبہ روک دے تو عرب امارات اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔