سعودی عرب کو بڑا جھٹکا۔!! سرکاری تیل کمپنی کے منافع میں تین چوتھائی کمی، آلِ سعود کی معیشت گُھٹنوں کے بل آگری

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب کو بڑا جھٹکا، سرکاری تیل کمپنی کے منافع میں دوسری سہہ ماہی میں 73 فیصد کمی آگئی۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری کنٹرول والی تیل کمپنی نے دوسری سہ ماہی کے منافع میں 73٪ کی کمی کی اطلاع دی ہے۔

سعودی تیل کمپنی آرامکو نے سالانہ منافع میں 75 ارب ڈالر ادا کرنے کے منصوبوں کو برقرار رکھا ہے ، جو خسارے سے دوچار حکومت کے لئے نقد رقم کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سعودی تیل کمپنی آرامکو ، نے کہا ہے کہ جون میں ختم ہونے والے تین ماہ میں منافع کم ہوکر 24.6 ارب ریال (6.6 بلین ڈالر) رہ گیا ہے ، جبکہ ایک سال قبل 92.6 ارب ریال تھا۔ آرمکو دوسری سہ ماہی کا 18.75 بلین ڈالر کا دوسرا منافع ادا کرے گا ، جس میں سے بیشتر حکومت کے ، کمپنی کے اہم شیئردارک حکومت کو دیتی ہے۔ آرامکونے سعودی اسٹاک ایکسچینج کو جاری بیان میں کہا کہ منافع میں کمی بنیادی طور پر “خام تیل کی کم قیمتوں اور گرتی ہوئی ادائیگی کی وجہ سے ہے سعودی عرب کی شان سمجھی جانے والی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی حالت آئے روز بہت خراب ہوتی جا رہی ہے۔ آرامکو کی کمائی میں اس سال کی دوسری سہ ماہی میں 73 فیصدی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ آرامکو دنیا کی سب سے بڑی خام تیل پیدا کرنے والی کمپنی ہے جس پر کورونا وبا کے سبب دنیا بھر میں نافذ لاک ڈاون کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، کمپنی کو اس سال 75 ارب ڈالر منافع کے طور پر ادا کرنا پڑا ہے۔ کمپنی کے سی ای او امین نصیر نے کہا ہے کہ عالمی بازار میں تیل کی صورت حال بہتر ہو رہی ہے لیکن عالمی بازار میں تیل کی طلب ابھی بھی کم ہے۔ کورونا وائرس کے انفیکشن کو روکنے کے لئے دنیا بھر میں لاک ڈاون اور سفری پابندیاں نافذ ہیں جس کا براہ راست طور پر اثر تیل کی طلب پر پڑا ہے۔ دنیا میں تیل کی کھپت کم ہو رہی ہے اور اس وجہ سے تیل کی قیمتیں دو دہائی کی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔