بریکنگ نیوز: افغانستان سے امریکیوں کی واپسی ۔۔۔۔ صدر ٹرمپ نے اچانک حیران کن حکم جاری کر دیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک )امریکی صدر کی جانب سے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد نصف کرنے کا کہہ دیا ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ رواں سال امریکی صدارتی انتخاب تک افغانستان میں 4 یا 5 ہزار تک امریکی فوجی رہ جائیں گے۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ پر انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جلد ہی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 8 ہزارتک لے آئیں گے اور پھر صدارتی انتخاب تک یہ تعداد 4 یا 5 ہزارتک رہ جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہیں بتاسکتا کب لیکن ہم بڑی حد تک افغانستان سے باہرآجائیں گے۔ایک بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوج بھیجنا امریکا کی تاریخ کی بڑی غلطی تھی۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران سے ملاقات کی اور خطے کی مجموعی سیکورٹی صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈکوارٹرز لاہور کا دورہ کیا اور وہاں سینئر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران سے ملاقات کی۔ کور ہیڈکوارٹرز لاہور پہنچنے کے موقع پر کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان نے چیف آف آرمی اسٹاف کا استقبال کیا۔اس موقع پر شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ اس ملاقات کے دوران سابق فوجی افسران و سربراہان جنرل (ر) جہانگیر کرامت، جنرل (ر) احسن سلیم حیات، جنرل (ر) طارق مجید، جنرل (ر) راشد محمود، جنرل (ر) راحیل شریف بھی موجود تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پیشہ وارانہ معاملات، خطے میں سیکورٹی صورتحال، امن و استحکام کے ثمرات کو بہتر بنانے کے اقدامات اور چیلنجز اور مواقع سمیت وسیع معاملات پر سیرحاصل تبادلہ خیال کیا۔ آخر میں شرکا نے مختلف تجاویز شیئر کیں اور اس اہم تبادلہ خیال پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل آرمی چیف نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کیا تھا اور عید اگلے مورچوں پر تعینات جوانوں اور افسروں کے ساتھ منائی تھی۔ اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہم دشمن کے عزائم سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ پاکستان اور خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے تاہم پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔