بات بالآ خر وہی نکلی ۔۔۔ کورونا وائرس کیسے پھیلایا گیا ؟ عالمی ادارہ صحت نے شواہد موصول ہونے کی تصدیق کر دی

نیویارک (ویب ڈیسک) عالمی ادارہ صحت نے ہوا کے ذریعے کورونا وائرس پھیلاو کے شواہد موصول ہونے کی تصدیق کر دی، 30 سے زائد ممالک کے سینکڑوں سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت پر زور دیا تھا کہ کورونا وائرس کے ہوا سے پھیلنے کے امکانات کو سنجیدگی سے لے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی

جانب سے منگل کے روز مہلک کورونا وائرس کے حوالے سے اہم اعلان کیا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے حکام نے تسلیم کیا ہے کہ کرونا وائرس کے ذریعہ ہوا پھیلنے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے ابھی تمام صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شواہد کو اکٹھا کر کے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد کوئی مزید ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ 30 سے زائد ممالک کے سیکڑوں سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت پر زور دیا تھا کہ وہ نوول کورونا وائرس کے ہوا سے پھیلنے کے امکانات کو سنجیدگی سے لے کیونکہ کووڈ 19 کے کیسز دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔239 سائنسدانوں کے دستخط سے جاری کھلے خط میں کہا گیا کہ ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ یہ وائرس ہوا کے ذریعے چار دیواری کے اندر پھیل سکتا ہے اور تنگ مقامات میں سابقہ اندازوں سے زیادہ متعدی ہوسکتا ہے۔ابھی کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے سماجی دوری کے اقدامات، اکثر ہاتھ دھونے اور منہ یا ناک سے خارج ہونے والے ذرات سے بچنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، مگر اس خط میں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ہوا کے ذریعے وائرس کے پھیلنے کے امکانات پر طبی اداروں جیسے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے سنجیدگی سے کام نہیں کیا جارہا۔ان سائنسدانوں میں سے ایک میری لینڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈونلڈ ملٹن کا کہنا تھا کہ یہ کوئی راز نہیں مگر ایسا نظر آتا ہے کہ طبی ادارے وائرس کے ہوا سے پھیلنے کے بارے میں بات کرنے سے خوفزدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہوا کے ذریعے اس کا پھیلا ممکن ہوسکتا ہے، مگر لاتعداد بین الاقوامی اور مقامی طبی اداروں کی جانب سے توجہ ہاتھ دھونے، سماجی دوری برقرار رکھنے اور منہ یا ناک سے خارج ہونے والے ذرات سے بچائو پر دی جارہی ہے۔سائنسدانوں نے لکھا کہ عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر طبی اداراے ہوا کے ذریعے وائرس کے پھیلائو کو شناخت نہیں کررہے، ہاتھوں کو دھونا اور سماجی دوری کے اقدامات مناسب ہیں، مگر ہماری نظر میں ہوا میں وائرس کے ننھے ذرات سے تحفظ کے لیے حوالے سے اقدامات ناکافی ہیں۔