کورونا وائرس نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو کمر توڑ جھٹکا دے دیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ خلیجی تعاون تنظیم (جی سی سی) کے ممالک کی معیشت رواں سال کے دوران 7اعشاریہ6 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔دوسری جانب امریکا میں روزانہ ایک لاکھ کورونا کیسز رپورٹ ہونےکا خدشہ ظاہر کیا گیاہے،دنیا بھر میں کورونا وائرس سے

متاثرہ افراد کی تعداد 1کروڑ 3لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک اس مرض کے باعث 5لاکھ 5ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکہ ہے جہاں 25 لاکھ سے زائد افراد اس مرض سے متاثر ہیں جبکہ وہاں اب تک سوا لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ اس بحران کا یرغمال بن کر نہیں چل سکتا۔امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے یومیہ ایک لاکھ متاثرین سامنے آسکتے ہیں۔وبائی امراض کے قومی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر فاؤچی سینیٹ کے اجلاس میں اراکین سے مخاطب تھے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عالمی وبا کی روک تھام سے متعلق ہم صحیح جانب نہیں جا رہے۔تفصیلات کے مطابق برطانوی میڈیا کے مطابق چھ ممالک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے معشیت سُست روی کا شکار ہوئی ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔ جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے جو ان کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔خلیجی تعاون تنظیم میں بحرین، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں کے دوران ایک تحقیقاتی ٹیم چین بھیجے گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں گذشتہ روز کورونا وائرس سے 155 اموات ہوئی ہیں۔