بریکنگ نیوز: چینی فوج لداخ اور گلوان وادی کے 135 کلومیٹر اندر آچکی،300 تک بھارتی فوجی مارے جاچکے۔۔۔۔ مودی سب کچھ جانتے ہوئے بھی چپ کیوں؟ کال لیک ہوتے ہی سب کچھ سامنے آ گیا

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار صابر شاکر نے کہا ہے کہ لداخ اور وادی گلوان میں کم ازکم 300 تک بھارتی فوجی مارے جاچکے ہیں، لداخ میں کانگریس کے مقامی لیڈر ذاکر حسین کی فون کال منظرعام پرآگئی، جس میں وہ فون پر کسی کو بتا رہے ہیں کہ چین بھارت کے ساتھ جو کچھ بھی

کررہا ہے، مودی سرکار کچھ نہیں بتا رہی، جبکہ چینی فوج لداخ اور گلوان وادی کے 135 کلومیٹر اندر آچکی ہے۔انہوں نے چین اور بھارت کے درمیان تناؤ اور جھڑپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا بند کمروں کے اجلاس میں کیا سوچ رہا ہے؟ انڈیا کی لڑائی اور جنگ کرنے کی صلاحیت کتنی زیادہ ہے؟ ایک اہم ترین خبر انڈیا میں بریک ہوئی ہے کہ کوشش ہورہی ہے کہ ڈی کوڈ کیا جائے ، را کو ذمہ داری سونپی ہے کہ پتا چلایا جائے کہ چین جو کررہا ہے، نیپال، بنگلا دیش کا موڈ خراب ہے، سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں؟ یہ ماجرا کیا ہے؟را نے ایک ٹیلیفونک ٹیپ پکڑی ہے، آڈیوٹیلیفونک گفتگو کی ریکارڈنگ نے بھونچال مچایا ہوا ہے۔ایک لیفٹیننٹ جنرل کے دوبیانات آئے ہیں، جنہوں نے مودی اور انڈین فوج کو جھوٹا ثابت کردیا ہے، کہ مودی سرکار اور بھارتی فوج مسلسل عوام سے جھوٹ بول رہی ہے، جبکہ گراؤنڈ پربھارتی فوج کو جتنی مار پڑ رہی ہے، اس کا ایک حصہ بھی نہیں بتایا جا رہا۔انڈیا میں یہ چیزیں آہستہ آہستہ باہر آرہی ہیں، مودی کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔آل پارٹیز کانفرنس میں مودی نے یہ کہا کہ ہمارے علاقے میں کوئی داخل ہوا، اور نہ ہی قبضہ کیا گیا ہے۔لیکن فوری دو چیزیں منظر عام پر آگئی ہے۔ لداخ کے کانگریس کے مقامی لیڈر ذاکر حسین کی فون کال منظر عام پر آگئی ہے، جس نے بھونچال مچا دیا ہے، وہ فون پرکسی کو بتا رہے ہیں کہ چین بھارت کے ساتھ جو کچھ بھی کررہا ہے، مودی سرکار کچھ نہیں بتا رہی۔ کم ازکم جھڑپوں میں دو سو سے تین سو کے درمیان انڈین آرمی کے لوگ مارے جاچکے ہیں۔ چینی فوج لداخ اور گلوان وادی کے 135کلومیٹر اندر آچکی ہے، انہوں نے انڈین فوج کا تہس نہس کردیا ہے۔ایک نئی ایکچوئل لائن آف کنٹرول کھینچ دی ہے۔یہ سب کچھ مقامی لیڈر ذاکر حسین بتا رہے ہیں۔