اب لو پنگا۔!! اہم ترین ملک نے جنگ کی صورت میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے قوانین کی منظوری دے دی

ماسکو (ویب ڈیسک) طاقت کا جنون۔ روس نے اپنے ملٹری ڈوکٹرائن میں جوہری جنگ ہونے کی صورت میں ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے کے اصول اور قوانین وضع کر دیے ہیں اور ساتھ ہی حکمت عملی کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں

جس میں چار مختلف منظرنامے پیش کیے گئے ہیں جن کے تحت روس جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دے سکتا ہے۔ ان میں سے دو منظرنامے نئے ہیں اور ان میں ممکنہ طور پر مخالف ملک کے مقابلے میں پہلے ہی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت بھی شامل ہے۔ طے شدہ پروٹوکولز میں اس وقت ان ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے جب دشمن ملک روس یا اس کے اتحادی کیخلاف جوہری یا وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے۔ روسی صدر کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ صدر ویلادیمیرپوٹن برطانوی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین سے متعلق رواں ہفتے ہونے والی آن لائن کانفرنس میں شرکت کا ارادہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوٹن کو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت گزشتہ ہفتے دی گئی تھی۔برطانوی حکومت کی جانب سے 4 جون کو گلوبل ویکسین سمٹ 2020 کا انعقاد کیا جارہا ہے جس کا مقصد کورونا وائرس کے خلاف تیار کی گئی ویکسین کی دنیا بھر میں دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔