’’سی پیک ناقابلِ برداشت‘‘ پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانے کی امریکی مذموم کوشش۔۔۔ چینی سفارتخانے نے بڑا اعلان کر دیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانے کی امریکی مذموم کوشش، چینی سفارتخانے نے بڑا اعلان کردیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین نے ایلس ویلز کے پاک چین تعلقات اور سی پیک سے متعلق بیان کا نوٹس لیتے ہوئے سخت بیان جاری کیا ہے۔ ترجمان چینی سفارتخانے نے

کہا ہے کہ ایلس ویلز کی تقریر بے بنیاد ہے،پاک چین تعلقات کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی مزموم کوشش کی گئی،پاکستان اور چین کے درمیان 69 سالوں سے بہترین سفارتی تعلقات موجود ہیں،دونوں ملک ایک دوسرے کا احترام اور مدد کرتے ہیں،پاکستان اور چین نے خطے میں امن و استحکام کیلئے مل کر کام کیا ہے، ترجمان چینی سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ پاک چین تعلقات مساوی بنیادوں پر استوار ہیں، چین نے کبھی پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی،سی پیک منصوبوں میں 25 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی ہے،2012سے 2019 کے درمیان امریکہ نے پاکستان میں صرف ایک ارب کی سرمایہ کاری کی ترجمان چینی سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں چین اور پاکستان ساتھ ہیں،چین نے 55 ملین امریکی ڈالر کا طبی سامان پاکستان کو مہیا کیا ہے ،ہم نے ہمیشہ پاکستان کو برابری کی سطح پر سمجھا ہے ۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی ایلس ویلز نے پاک چین تعلقات بارے متنازعہ بیانات دیئے جس پر پاکستان اور چین دونوں نے امریکہ کو جواب دیا،روان برس 23 جنوری کو وزارت منصوبہ بندی نے سی پیک پر امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلزکے بیان پر رد عمل میں کہا ہے کہ بی آرآئی کے تحت میگاڈیولپمنٹ پروجیکٹس سےاقتصادی ترقی آئے گی، سی پیک پاکستان کی معاشی اورمعاشرتی ترقی کی جانب اہم قدم ہے، فیزون کےمنصوبوں سےعوام کوریلیف ملا۔

وزارت منصوبہ بندی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فیزون سے ملک کوسماجی واقتصادی فوائد ملناشروع ہوچکے ہیں، سی پیک ملکی ترقی کی رفتاربڑھانے میں معاون ثابت ہوگا،پاکستان خودمختارملک ہے،اقتصادی شراکت داری کے انتخاب کاحق رکھتاہے،منصوبوں میں شفافیت کوترجیح دی جاتی ہے۔ قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ سی پیک کے حوالے سے ہمیں اپنے مفاد کو دیکھنا ہے، جو چیز ہمارے مفاد میں ہے ہم اس پر عمل پیرا رہیں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین گہرے دوست ہیں، سی پیک منصبوں کی جلد تکمیل حکومت پاکستان کی ترجیح ہے، 7 ہزارمیگاواٹ کے 4.12 ارب ڈالرز کے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے، سی پیک کے 9 ارب ڈالرز کے قرضے ہیں جو کل قرضوں کا دس فیصد بھی نہیں، سی پیک قرضوں کی خودمختاری کی ضمانت سے متعلق باتیں درست نہیں، پاکستان ایف اے ٹی ایف سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کے بیان پر چینی سفارتخانے نے درعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک اور پاک چین تعلقات میں امریکی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں۔ چینی سفارتخانے کے ترجمان کی جانب سے جاری مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے منفی پراپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ امریکی اقدامات عالمی معیشت کے لیے نہیں، اپنے مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔امریکا دنیا بھر میں پابندی کی چھڑی لے کر گھومتا ہے اور ممالک کو بلیک لسٹ کرتا ہے۔ امریکا حقائق سے آنکھیں چرا کر سی پیک پر اپنی بنائی ہوئی کہانی پر قائم ہے۔ چینی ترجمان نے کہا کہ سی پیک کام کر رہا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب پاکستانی عوام نے دینا ہے نہ کہ امریکا نے۔ امریکا خود ساز قرضہ جات کی کہانی میں مبالغہ آرائی کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ چین پاکستانی عوام کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ گزشتہ 5 برسوں میں 32 منصوبے قبل ازوقت مکمل ہوئے۔ ان منصوبوں سے 75 ہزار افراد کو روزگار کے مواقع پیدا ہوئے