سعودی عرب میں پارٹ ٹائم ملازمت کے نے قواعد و ضوابط کا اعلان کردیا گیا

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں پارٹ ٹائم ملازمت اور لچکدار ڈیوٹی نظام سے متعلق قانون محنت میں ترمیم کر دی گئی ہے،سرکاری گزٹ اُم القریٰ میں بھی ترمیم شدہ قواعد و ضوابط شائع کیے گئے ہیں . اُردو نیوز کے مطابق پارٹ ٹائم ملازمت کے نئے قواعد و ضوابط میں تاکید کی گئی ہے

کہ ایسی ملازمت کا ملازمت کا معاہدہ تحریری ہونا لازمی ہے، جس کی ابتدا اور انتہا متعین ہوں گے، اوقات کار متعین ہوں جو معمول کے نصف اوقات کار سے کم ہوں. یہ تعین یومیہ کی بنیاد پر ہو یا ہفتے کے دنوں کے لحاظ سے ہو . جز وقتی ملازمت کے معاہدے میں توسیع کی جاسکتی ہے. پہلے معاہدے کے برابر بھی توسیع ممکن ہے اور کسی بھی مدت کی توسیع ممکن ہے جس پر فریقین متفق ہوں. اگر کسی فریق نے ملازمت کا معاہدہ ناحق منسوخ کردیا تو متاثرہ فریق معاہدے کی باقی ماندہ مدت کا محنتانہ معاوضے کے طور پر طلب کرسکتا ہے.بشرطیکہ فریقین نے اس حوالے سے اس سے مختلف کوئی اور بات نہ طے کررکھی ہو. جز وقتی ڈیوٹی والے ملازم چھٹیوں’ ہفت روزہ چھٹی، سرکاری تعطیلات اور اوورٹائم کے بارے میں قانون محنت کے احکام کے پابند ہوں گے. جزوقتی سعودی ملازم کوآجر کے یہاں سعودائزیشن کی شرح والے زمرے میں شمار کیا جائے گا. سوشل انشورنس جنرل کارپوریشن میں اس کا اندراج جزوقتی کارکن کے طورپر ہوگا. جبکہ لچکدارڈیوٹی نظام کے قواعد ضوابط کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے. وزارت محنت کے مطابق لچکدار ڈیوٹی سے مراد ایسے کارکن کی ڈیوٹی ہے جو ایک یا ایک سے زیادہ کے آجر کے یہاں ملازمت کررہا ہو اور فی گھنٹہ محنتانہ لے رہا ہو. بشرطیکہ ایک آجر کے یہاں کارکن کے اوقات کار کسی ادارے میں اس کے نصف اوقات کار سے کم ہوں. لچکدار ڈیوٹی قانون سے متعلق ملازمت کے معاہدے سعودیوں تک محدود ہوں گے. جزوقتی اور لچکدار ملازمت پر کام کرنے والوں کے درمیان اختلافات کا فیصلہ لیبر عدالتیں کریں گی.