سُنی اور شیعہ میں کوئی جھگڑا نہیں۔۔!! معمولی اختلافات کی بنیاد پر اسلامی وحدت اور یکجہتی کے خلا ف کونسا ’مکرو ہ پراپیگنڈا‘ کیا جارہا ہے؟ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنر ل نے مسلمانوں کے لیے بڑا پیغام جاری کر دیا

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سنی شیعہ آپس میں بھائی بھائی ، کلمہ گو ہونے کی حیثیت سے ہمارے ہم مذہب ہیں ۔ اختلافات اپنی جگہ ضرور ہیں لیکن دونوں توحید رسالت محمدیؐ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنر ل محمد العیسٰی نے عرب ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئےکہا ہے کہ شعیہ اور سنی

اختلافات اور دیگر فکری مسائل میں اختلافات ضرورلیکن ان آڑ میں اسلامی اخوت ، وحدت اور یکجہتی کو توڑنے کی اجازت ہر گر نہیں دی جا سکتی ۔ ان کا کہنا تھا سنی شیعہ میں کوئی جھگڑا نہیں اصل مسئلہ جنونی رویے اور فرقہ ورانہ سوچ ہے جس کی وجہ سے دوسرے مسالک کو اسلام سے خارج کرنے کی کوشش افسوسناک حربے استعمال کیے جاتےہیں ۔ ہمارے نبی ایک ، قرآن مجید ، دین ایک ، اللہ ایک قبلہ ، اور قربانی کا طریقہ بھی ایک ہی ہے ۔ انہوں نے ایک حدیث بھی بیان کی ، حضورپاکؐ نے فرمایا : ہر وہ شخص جو قبلہ رُخ ہو کر نماز پڑھتا ہے اور قربانی کی رسم ادا کرتا ہے، وہ مسلمان ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی پناہ میں ہے۔ اس حدیث کی رو سے شیعہ سنی کلمہ گو ہیں ۔ لہذا ایک دوسرے پر فتوی جاری کر کے اسلام سے خارج کرنے کے مکروہ پروپیگنڈوں کو بند ہونا چاہیے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے عراق میں نئی حکومت کی تشکیل پر نئے وزیر اعظم مصطف الاظمی سے بات چیت کی ہے۔سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بن سلمان نے ٹیلیفون پر الکاظمی کو مبارک باد پیش کی اور عراق اور اس کے عوام کی ترقی کے حوالے سے اپنی نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔سعودی ولی عہد نے باور کرایا کہ مملکت کی جانب سے عراق کی سپورٹ جاری رہے گی ۔ سعودی عرب دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات مضبوط بنانے کا خواہش مند ہے۔ادھر عراق کے نئے وزیراعظم نے برادرانہ اور نیک جذبات کے اظہار پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو باور کراتے ہوئے مزید تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔عراقی وزیر اعظم کے دفتر کے اعلان کے مطابق مصطفی الکاظمی کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت بھی موصول ہوئی ہے۔اس سے قبل سعودی وزارت خارجہ نے عراق میں مصطفی الکاظمی کی سربراہی میں نئی حکومت کی تشکیل کے اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔ وزارت خارجہ نے عراق کے لیے سعودی عرب کی سپورٹ کا اظہار کیا۔ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ مملکت تعاون، متبادل احترام، تاریخی روابط اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس طرح بیرونی مداخلتوں سے دور رہتے ہوئے خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔