شرم تو کہیں ڈوب گئی۔۔!! لاک ڈاﺅن کے دوران نوعمروں نے گھروں پر انتہائی شرمناک کام شروع کردیا۔۔۔ والدین کے لیے انتہائی پریشان کن خبر آگئی

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت میں لاک ڈاﺅن کے دوران گھروں میں فارغ بیٹھے نوجوانوں نے ایک ایسا شرمناک کام شروع کر دیا کہ سن کرتمام والدین پریشان ہو جائیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ماہرین نے بتایا ہے کہ لاک ڈاﺅن میں نوعمر لوگوں کی بڑی تعداد فحش مواد کی طرف راغب ہو رہی ہے۔

لاک ڈاﺅن کے ان دنوں میں فحش فلموں کی ویب سائٹس پر ٹریفک میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیٹنگ ایپلی کیشنز پربھی بھارتی شہریوں کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ماہر نفسیات ڈاکٹر زیرک مارکر کا کہنا ہے کہ ”نوعمر لڑکے لڑکیوں کو ہر حال میں اپنی جگہ اور پرائیویسی چاہیے ہوتی ہے۔ لاک ڈاﺅن سے قبل وہ باہر کھیل کود کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے، سکول اور کالج جاتے تھے، دوستوں کے ساتھ وقت گزاری کرتے تھے لیکن اب ان کو وقت گزارنے کے لیے ایسا کوئی موقع میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی بڑی تعداد فحش مواد کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اس کے نوجوانوں کی نفسیات پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے اور لاک ڈاﺅن کے خاتمے کے بعد بھی معاشرے پر یہ اثرات باقی رہیں گے۔“دوسری جانب ایک خبر کے مطابق لاک ڈاﺅن کی وجہ سے میاں بیوی ہمہ وقت ایک ساتھ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں اور شاید ایسا پہلی بار ہو رہا ہے، چنانچہ گھریلو تشدد کے کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ اب بھارت کے اس شخص ہی کو دیکھ لیں جس نے لڈو میں بار بار بیوی کے ہاتھوں ہارنے کے بعد بیوی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر وڈودرا میں پیش آیا ہے۔ یہ میاں بیوی وڈودرا کے علاقے ویملی میں رہتے ہیں۔ متاثرہ خاتون بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔ لاک ڈاﺅن کے دوران وقت گزاری کے لیے دونوں میاں بیوی آپس میں آن لائن لڈوگیم کھیلتے رہے اور جب بیوی نے بار بار شوہر کو ہرایا تو وہ غصے میں آ گیا اور اسے اس وحشیانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا کہ اس کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ خاتون نے ہیلپ لائن 181پر کال کی اور اسے آرتھوپیڈک سرجن کے پاس پہنچایا گیا۔