نامور خاتون صحافی قتل ۔۔۔ ایک خبر نے پورے امریکہ میں ہلچل مچا دی

بگوٹا،سان سلواڈور(وہب ڈیسک)کولمبیا کے صدر ہوان مانویل سانتوس نے کہا ہے کہ ایکواڈور کے دو صحافیوں اور ان کے ڈرائیورکو مسلح گروہ نے اغوا کے بعدقتل کر دیاہے ۔ صدر سانتوس نے سی این این سے بات چیت کرتے ہوئے افسوس کیساتھ کہا کہ کولمبیا کے سابق انقلابی مسلح گروہ FARCکے حکومت کیساتھ

امن معاہدے کو قبول نہ کرنے والے ایک علیحدگی پسند مسلح گروہ کی یہ کارستانی لگتی ہے ۔دوسری طرف لاطینی امریکی ملک السلواڈور میں ایک خاتون صحافی مردہ حالت میں پائی گئی ۔ حکام کا کہنا ہے کہ لا پرنسا گرافیکا نامی گروپ کے ال اکونومستا نامی جریدے سے منسلک کارلا لیسیتھ ترکوائز کی لاش ان کے گھر سے اغوا کیے جانے کے بعد سان سلواڈور کے شمال مشرق میں واقع ایک شاہراہ کے کنارے سے ملی ۔بتایا گیا ہے کہ کارلا گزشتہ ہفتے کے روز سے لا پتہ تھیں جن کی گمشدگی کے بارے میں ان کے شوہر نے پولیس میں رپورٹ درج کرا رکھی تھی ۔رومن کیتھولیک بشپ ہوزے لوئس ایسکوبار نے اس قتل کی واردات کو عوام کیخلاف ایک حملہ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ انٹرنیشنل نیوز سیفٹی انسٹیٹیوٹ (آئی این ایس آئی) کے مطابق رواں سال 2017 میں دنیا بھر میں 68 صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کو قتل کیا گیا جن میں سے 9 خواتین بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ 2016 میں 112 صحافیوں کا قتل کیا گیا تھا جن میں 3 خواتین شامل تھیں جبکہ 2015 میں 10 خواتین سمیت 101 صحافیوں کا قتل کیا گیا تھا۔آئی این ایس آئی کے ڈائریکٹر ہنناہ اسٹورم کا کہنا تھا کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران مردوں کے

مقابلے میں عورتوں کے قتل کے سب سے زیادہ واقعات رونما ہوئے۔2017 میں کچھ انتہائی اہمیت کی حامل قتل ہونے والی خواتین میں کم وال بھی شامل ہیں جنہیں قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو کوپن ہیگن میں سمندر کے کنارے پھینک دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ کرد صحافی شفا گردی، بھارت کی گوری لنکیش، میکسیکو کی جنگ میں ہلاکتوں پر رپورٹ کرنے والی میروسلاوا بریچ شامل ہیں۔کارڈف اسکول آف جرنلزم کی کتاب ‘کلنگ دی میسینجر’ جسے آئی این ایس آئی نے ترتیب دیا کے مطابق رواں سال صحافیوں کے لیے 5 سب سے خطرناک ممالک میں افغانستان، میکسیکو، عراق، شام اور فلسطین کا نام شمار کیا گیا ہے۔رواں سال صحافیوں کے قتل کے واقعات گزشتہ سال سے کم تھے تاہم 68 افراد میں سے 32 افراد کا ایسے ممالک میں قتل کیا گیا جنہیں پر امن قرار دیا جاتا ہے۔ان ممالک میں میکسیکو، بھارت اور مالٹا شامل ہیں۔زیادہ تر قتل کے واقعات مقامی صحافیوں میں رونما ہوئے جو وہیں رہتے اور کام کرتے تھے اور انہیں اپنی ہی زمین پر قتل کیا گیا تھا۔رواں سال چار شہری صحافیوں کا قتل کیا گیا جن میں سے تمام کا تعلق شام سے تھا جہاں میڈیا نمائندوں کے لیے کام کرنا سب سے مشکل بتایا جاتا ہے۔آئی این ایس آئی کے مطابق 9 واقعات کے ملزمان کی شناخت کرتے ہوئے انہیں حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔ہنناہ اسٹورم کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے قتل ہونے والے ہر صحافی کو جنس، قومیت اور مذہب کی تفریق کے بغیر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال قتل ہونے والے 68 صحافیوں نے اپنے کام کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔(م،ش)