ہزاروں لوگ ایک قاتل کی گردن زدنی کا نظارہ کرنے جمع ہو گئے، تمام انتظامات مکمل تھے، جلاد نے تلوار سونت لی مگر۔۔۔دوروز قبل سعودی عرب میں ایک ایمان تازہ کردینے والا واقعہ پیش آگیا

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں باپ نے اپنے بیٹے کے قاتل کو اللہ کی رضا کیلئے معاف کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیشہ کمشنری کے رہائشی حمود بن مسفر السبیعی نے اپنے بیٹے کے قاتل کو اللہ کی رضا کیلئے معاف کردیا۔ معافی کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

بیشہ کمشنری کے بیشتر قبائل گردن زدنی کا منظر دیکھنے کیلئے میدان میں پہنچے ہوئے تھے۔ حمود السبیعی نے یہ اعلان کرکے کہ وہ اپنے بیٹے کے قاتل کو اللہ کی رضا کیلئے معاف کرتے ہیں سب لوگوںکو چونکا دیا۔ہر طرف سے پذیرائی کے نعرے بلند ہوئے اور ہر ایک نے انہیں بہترین اجر و ثواب کی دعائیں دیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی‘ نے سزائے موت سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران سزائے موت پرسب سے زیادہ عمل درآمد ایران میں کیا گیا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ایران میں 507 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ یوں ایران میں دی جانے والی پھانسی پوری دنیا میں ہونیوالی سزائے موت پرعمل درآمد کا 51 فی صد ہیں جب کہ پورے مشرق وسطیٰ میں مجموعی طورپر 60 فی صد سزائے موت دی گئی۔رپورٹ کے مطابق 2017ئ￿ کے آخر تک سزائے موت کے قانون کو منسوخ کرنے والے ممالک کی تعداد 106 ہوگئی جب کہ قانون ہونے کے باوجود سزائے موت پرعمل درآمد نہ کرنے والے ملکوں کی تعداد 142 بتائی جاتی ہے جو کہ دنیا کے کل ممالک کا دو تہائی ہے۔سال دو ہزار سترہ کے دوران 23 ملکوں میں مجرموں کو پھانسی دی گئی۔(ف،م)