خُدا سے گِڑ گِڑا کر رحم مانگنے کا وقت۔۔!! سعودی عرب کی تمام مساجد میں نمازوں پر پابندی عائد کر دی گئی

مکہ مکرمہ(نیوز ڈیسک ) مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے علاوہ سعودی عرب کی دیگر تمام مساجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد، فیصلے کا اطلاق فوری ہوگا، کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر میدان عرفات کو بھی بند کر دیا گیا، سعودی عرب میں کرونا وائرس کے 100 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی

عرب میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث عمرہ زائرین پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے۔اس کے علاوہ مملکت کو پندرہ روز کے لیے لاک ڈاؤن بھی کر دیا گیا ہے، جس کے بعد کوئی شخص مملکت سے باہر جا سکتا ہے اور نہ مملکت میں آ سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک کورونا وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکا، ہر گزرتے دن کے ساتھ درجنوں کیسز سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث سعودی حکام اور عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔مکہ میونسپلٹی کی جانب سے ایک اور فیصلہ لیا گیا ہے جس کے تحت میدان عرفات کو زائرین اور مقامی افراد کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔میونسپلٹی کے مطابق جبل رحمت کے میدان کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر احتیاطی طور پر بند کیا گیا ہے۔سبق ویب سائٹ کے مطابق میونسپلٹی نے واضح کیا ہے کہ زائرین کے علاوہ تفریح کی غرض سے آنے والے مقامی افراد پر بھی جبل رحمت میں داخلے کی عارضی پابندی ہو گی۔واضح رہے کہ کرونا وائرس کے پھیل جانے کے بعد حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے مسجد نبوی شریف میں حفاظتی اور احتیاطی اقدامات کی سطح کو مزید بلند کر دیا ہے۔اس سلسلے میں مسجد نبوی کے اندر جراثیم کش مواد کے ساتھ صفائی کا عمل بڑھا دیا گیا ہے۔ اس کام میں جدید ترین آلات اور مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسجد نبوی میں پانی کے کولروں ، گلاسوں اور قالینوں کو دن بھر میں دس مرتبہ صاف کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح نماز کے لیے بچھے قالینوں کی صفوں کے درمیان 1.5 میٹر کا فاصلہ کر دیا گیا ہے تا کہ امراض کے پھیلاوٴ پر روک لگائی جا سکے۔مسجد نبوی کے فرش کو جراثیم کش اور خوشبو دار مواد کے ذریعے روزانہ چھ مرتبہ دھونا، توسیع کے علاقوں میں داخلی راستوں پر جراثیم کش مواد کا چھڑکاوٴ، نمازیوں کی صفوں کے قالینوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا اور مسجد کے اندر ایئر کنڈیشنر کی جالیوں اور روشن دانوں کی خصوصی صفائی شامل ہے۔حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے مسجد حرام اور مسجد نبوی کو جراثیم سے پاک رکھنے اور ان کی تطہیر کے لیے 3500 اہل کار مامور کیے ہیں۔واضح رہے کہ روضہ مبارک کو بقیہ مسجد سے علاحدہ کرنے والے برآمدوں میں نماز کی ادائیگی پر عارضی پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ برآمدے مسجد نبوی کی پرانی تعمیر کا حصہ ہیں۔ اس تعمیر کا مجموعی رقبہ 16 ہزار مربع میٹر ہے۔ پانچوں نمازوں کے وقت مسجد نبوی کے امام کا داخلہ اور جنازے کی موجودگی مذکورہ پابندی سے مستثنی ہے۔