چین حلال اور حرام کا فرق سمجھ گیا۔۔۔!!! کرونا وائرس کے بعد چائینہ نے اسلام میں حرام قرار دیئے گئے جانوروں کے گوشت پر پابندی لگا دی

شینزین (نیوز ڈیسک ) چین کے شہر شینزین میں کتے اور بلیوں کے کھانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔جانوروں کے فلاحی گروپ ہیومن سوسائٹی انٹرنیشنل کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ کتے اوربلیوں پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔شنیزین کے جنوب میں موجود ٹیکنالوجی مرکز کتوں اور بلیوں کے استعمال کو غیر قانونی

قرار دینے کے لئے بڑھ چڑھ کر اقدامات کر رہا ہے۔کیونکہ سائنسدانوں کو شبہ ہے کہ اس سے کروونا وائرس پھیل گیا ہے۔جس کے بعد جنگلی حیات کی تجارت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،جن جانوروں کے گوشت پر پابندی لگائی جا رہی ہے اس کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جس میں سور کا گوشت ،مرغی ، گائے کا گوشت اور خرگوش کے علاوہ مچھلی اور سمندری غذا بھی شامل ہیں۔اس حوالے سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جنگلی جانوروں کے استعمال پر پابندی عائد کرنا ترقی یافتہ ممالک میں ایک عام رواج ہے اور یہ جدید تہذیب کی عالمی ضرورت ہے۔سائنسدانوں کو شبہ ہے کہ کرونا وائرس جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہوا ہے۔کیونکہ ایسے لوگوں میں کرونا وائرس پایا گیا جو چین کے صوبائی دارالحکومت ووہان میں وائلڈ لائف مارکیٹ میں جاتے تھے جہاں چمگادڑ ، سانپ اور دوسرے جانور فروخت ہوتے تھے۔دستاویز میں کتوں اور بلیوں کی حیثیت کو پالتو جانور کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھالیکن ان کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ہو سکتا ہے کہ شنزین میں دیگر شہروں میں بھی ان جانوروں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے۔جب کہ دوسری جانب ۔ چین میں کرونا وائرس کے اثرات کم ہونے لگے، ایک ماہ کے دوران گزشتہ روز سب سے کم 29 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 433 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔چین میں کرونا سے اب تک 2 ہزار 744 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ چین میں کرونا وائرس سے مزید 29 افراد ہلاک ہو گئے، حکام کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہ ایک روز میں سب سے کم ہلاکتیں ہیں۔ نئے متاثرین کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ 22 ہزار 888 افراد صحتیابی کے بعد گھروں کو چلے گئے۔ نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق چین میں 2 ہزار 744 افراد کرونا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔