بریکنگ نیوز: ایرانی انتخابات میں بڑا اپ سیٹ ۔۔۔۔۔حسن روحانی دوبارہ صدر بن سکیں گے یا نہیں ؟ فیصلہ کن خبر آگئی

تہران (ویب ڈیسک) ایران کی قدامت پسند جماعت نے ملک کے پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیاب حاصل کر لی۔ اس طرح حسن روحانی پھر ایرانی صدر بن جائینگے۔ امکان ہے کہ قدامت پسند دو تہائی اکثریت حاصل کرینگے۔ دوسری جانب سابق پارلیمنٹ میں اصلاح پسندوں کو بری طرح شکست ہوئی ہے۔

وہ پارلیمنٹ کی 290 میں صرف 17 نشستیں حاصل کر سکے جبکہ قدامت پسند کم و بیش 200 نشستیں حاصل کر چکے، جن میں 30 نشستیں دارالحکومت کی شامل ہیں۔ تہران کبھی اصلاح پسندوں کا مضبوط گڑھ ہوا کرتا تھا۔ ٹرن آؤٹ اس قدر زیادہ ان کے 55 ہزار پولنگ سٹیشنوں میں پولنگ کیلئے ڈیڈ لائن میں کوئی بار توسیع کرنا پڑی۔ ايران ميں سن 1979 کے انقلاب کے بعد يہ پہلا موقع ہے جب انتخابات ميں ٹرن آؤٹ پچاس فيصد سے کم رہا۔ ووٹر ٹرن آؤٹ ميں کمی کو عوام ميں حکومت کی عدم مقبوليت کے طور پر ديکھا جا رہا ہے۔ يہ ممکنہ طور پر موجودہ نظام اور مذہبی قوتوں کے اقتدار ميں ہونے کے خلاف عوامی ناراضی کا اظہار بھی ہے۔يہ امر اہم ہے کہ پچھلے ايک ڈيڑھ سال سے ايران متعدد بحرانوں کی زد ميں رہا ہے۔ امريکی پابنديوں نے ايرانی معيشت کی کمر توڑ رکھی ہے۔ پچھلے سال نومبر ميں ہونے والے ملک گير مظاہرے بھی ايک باقاعدہ تحريک کی شکل اختيار کر گئے تھے۔دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو الزام عائد کیا کہ غیر ملکی میڈیا نے ایران میں کورونا وائرس پر رپورٹنگ کے ذریعے لوگوں کی اليکشن میں شرکت کی حوصلہ شکنی کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات کے خلاف پروپیگنڈا مہم کئی ماہ سے جاری تھی تاہم گزشتہ دو ماہ سے اس میں مزيد شدت آئی۔ خامنہ ای نے کہا کہ ووٹروں کی حوصلہ شکنی کے لیے میڈیا نے کوئی معمولی موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ واضح رہے کہ پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ایران میں کئی مقامات پر لوگ ماسک پہنے دکھائی دیے۔ کورونا وائرس کے شکار افراد کے اعتبار سے چین اور جنوبی کوریا کے بعد ایران سب سے آگے ہے۔