اگر بھارت میں امریکی صدر ٹرمپ کا والہانہ اور گرمجوشی سے استقبال کیا گیا تو اسکے پیچھے نریندر مودی کی کیا چال چھپی ہوگی ؟ امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کی دھماکہ خیز رپورٹ

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ بھارت میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا استقبال احتجاج سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہوگا۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار بھارت کا سیاہ چہرہ امریکی صدر سے چھپانے کے لیے بھرپور تیاریاں کر رہی ہے، مودی کی اس بناوٹی خوش مزاجی کے

پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے، امریکی صدر شہریت کے متنازعہ قانون پر بات کرسکتے ہیں جبکہ نریندر مودی کو کشمیر میں لاک ڈائون کی وجہ سے دنیا بھر میں تنقید کا سامنا ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق امریکی وائٹ ہائوس نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے صدر ٹرمپ دورہ بھارت میں مودی سے مذہبی آزادی پر بات کریں گے۔ مسئلہ کشمیر پر بھی بات کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وائٹ ہائوس نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے صدر ٹرمپ دورۂ بھارت میں مودی سے مذہبی آزادی پر بات کریں گے۔ مسئلہ کشمیر پر بھی بات کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وائٹ ہائوس نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال پر تشویش ہے۔ صدر ٹرمپ دورۂ بھارت میں مودی سے مذہبی آزادی پر بات کریں گے۔ مذہبی آزادی کا معاملہ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے انتہائی اہم ہے۔ عہدیدار وائٹ ہائوس کا کہنا تھا شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف مظاہروں پر تشویش ہے۔ صدر ٹرمپ 24 فروری سے بھارت کا 2 روزہ دورہ کریں گے۔ ٹرمپ کے پاکستان‘ بھارت کشیدگی میں کمی کے بیانات حوصلہ افزا ہیں اور وہ تنازعات باہمی ڈائیلاگ سے حل کرنے کے حامی ہیں۔ صدر دونوںممالک کو اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیں گے۔ کشیدگی میں کمی اور دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ ٹرمپ دورہ بھارت میں اقلیتوں سے بدترین امتیازی سلوک اور مذہبی آزادیوں پر پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھائیں گے اور زور دیں گے کہ پاکستان سے کشیدگی کم کی جائے۔ وائٹ ہائوس انتظامیہ نے تصدیق کی بھارت کے دورے میں نہ صرف اقتصادی اور فوجی صلاحیت بڑھانے پر بات ہوگی بلکہ وہ مودی سرکار پر زور دیں گے کہ قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے اور تمام مذاہب کے افراد کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اس بات پر بھی زور دیا جائے گا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر استحکام کی فضا پیدا کی جائے۔ وائٹ ہائوس کے اہلکار کا کہنا تھا امریکہ کی توجہ افغانستان میں امن عمل پر مرکوز ہے اور اس کی خواہش ہے کہ علاقائی طاقتیں اس عمل میں امریکہ کی مدد کریں۔ ٹرمپ کے دورے میں دوطرفہ مسائل اور اختلافات ڈائیلاگ سے حل کئے جانے پر بھی زور دیا جائے گا۔