بریکنگ نیوز: ایران میں انتخابات ۔۔۔ صدر حسن روحانی کی جماعت کو کمر توڑ جھٹکا لگ گیا

تہران (ویب ڈیسک) ايران ميں 1979ء کے انقلاب کے بعد پہلا موقع ہے جب اليکشن ميں ٹرن آؤٹ پچاس فيصد سے کم رہا۔ چند حلقے اسے حکومتی پاليسيوں پر عدم اعتماد کا نتيجہ قرار دے رہے ہيں تاہم حکومت کا الزام ہے کہ غير ملکی ميڈيا نے پراپيگنڈا پھيلايا۔ايران ميں جمعے اکيس فروری کے روز

جرمن ویب سائٹ ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔منعقدہ پارليمانی انتخابات کے ابتدائی، غير حتمی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہيں۔ خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پریس کی دارالحکومت تہران سے اتوار تيئس فروری کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق تہران کی تمام تيس نشستوں پر سخت گير نظريات کی حامل جماعت فاتح رہی۔ سرکاری ٹيلی وژن پر تہران کے سابق ميئر محمد باغير قاليباف کی جيت اور انہيں 1.2 ملين ووٹ ملنے کا دعویٰ بھی کيا گيا ہے۔يہ امر اہم ہے کہ اليکشن سے قبل تقريباً سات ہزار اميدواروں کو نا اہل قرار دے ديا گيا تھا۔ ان ميں اکثريت آزاد خيال اور اصلاحات پسند اميدوار تھے۔ نااہل قرار ديے جانے اميدواروں ميں نوے ايسے ارکان پارليمان بھی شامل ہيں، جو آزاد اميدواروں کے طور پر اليکشن ميں حصہ لينا چاہتے تھے۔ آزاد خيال اميدواروں کی قيادت صدر حسن روحانی کر رہے تھے۔ ايرانی وزير داخلہ عبدل رضا رحمانی فضلی نے دعویٰ کيا ہے کہ اليکشن ميں ووٹر ٹرن آؤٹ 42.57 فيصد رہا۔ تہران حکومت کے ليے اتنا کم ٹرن آؤٹ قابل فکر بات ہے کيونکہ انتخابات سے قبل پچپن سے ساٹھ فيصد ٹرن آؤٹ کی پيشن گوئی کی گئی تھی۔ دريں اثناء نيوز ايجنسی ڈے پی اے کی رپورٹوں کے مطابق تہران ميں ووٹر ٹرن آؤٹ محض ستائيس فيصد رہا، جو بظاہر شايد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام سخت گير نظريات کی حامل اسلامی حکومت سے نالاں ہيں۔ايران ميں سن 1979 کے انقلاب کے بعد يہ پہلا موقع ہے جب انتخابات ميں ٹرن آؤٹ پچاس فيصد سے کم رہا۔ ووٹر ٹرن آؤٹ ميں کمی کو عوام ميں حکومت کی عدم مقبوليت کے طور پر ديکھا جا رہا ہے۔ يہ ممکنہ طور پر موجودہ نظام اور مذہبی قوتوں کے اقتدار ميں ہونے کے خلاف عوامی ناراضی کا اظہار بھی ہے۔يہ امر اہم ہے کہ پچھلے ايک ڈيڑھ سال سے ايران متعدد بحرانوں کی زد ميں رہا ہے۔ امريکی پابنديوں نے ايرانی معيشت کی کمر توڑ رکھی ہے۔ پچھلے سال نومبر ميں ہونے والے ملک گير مظاہرے بھی ايک باقاعدہ تحريک کی شکل اختيار کر گئے تھے۔دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو الزام عائد کیا کہ غیر ملکی میڈیا نے ایران میں کورونا وائرس پر رپورٹنگ کے ذریعے لوگوں کی اليکشن میں شرکت کی حوصلہ شکنی کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات کے خلاف پروپیگنڈا مہم کئی ماہ سے جاری تھی تاہم گزشتہ دو ماہ سے اس میں مزيد شدت آئی۔ خامنہ ای نے کہا کہ ووٹروں کی حوصلہ شکنی کے لیے میڈیا نے کوئی معمولی موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ واضح رہے کہ پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ایران میں کئی مقامات پر لوگ ماسک پہنے دکھائی دیے۔ کورونا وائرس کے شکار افراد کے اعتبار سے چین اور جنوبی کوریا کے بعد ایران سب سے آگے ہے۔(بشکریہ : ڈوئچے ویلے )