اگےکنواں پیچھے کھائی۔۔۔ چین میں کروناوائرس کے مریض کس بڑٰی مصیبت میں پھنس گئے؟ افسوسناک تفصیلات

بیجنگ (ویب ڈیسک) چینی عدالت نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ دانستہ طور پر کورونا وائرس کی بیماری چھپانا ایک فوجداری جرم ہے اور ایسا کرنے پر موت کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔عدالت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیماری کو چھپانے سے ہر قیمت پر اجتناب کریں۔ ایک اخبار کے

مطابق ایسا کرنے کی معمول کی سزا دس برس ہے لیکن انتہائی صورت میں عمر قید یا سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔ چین میں اس وائرس کی وباء سے ہزاروں افراد نمونیا بیماری میں مبتلا ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق کروناوائرس سے نہ تو ہلاکتوں کا سلسلہ رکا ہے نہ ہی مزید کیسزسامنے آنے کا سلسلہ تھما ہے تاہم چینی حکام کے مطابق ایک بہتری دیکھنے کو ملی ہے کہ نئے کیسز کی تعدادمیں کمی ہورہی ہے۔ ادھر بحری جہاز پر پھنسے مزید ستر افراد اس مہلک مرض میں مبتلا نکلے۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے چینی محکمہ صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ چینی صوبہ ہوبے کی حکومت ووہان شہر سے پھیلنے والے خطرناک وائرس سے نمٹنے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہے تاہم اس پر قابوپانے میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے ۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد1ہزار665ہوگئی ہے جبکہ متاثرین کی کل تعداد68ہزار500 ہوگئی ہے۔چین کے قومی کمیشن برائے صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹومیں مزید142افراد لقمہ اجل بنے ہیں جبکہ2ہزار9نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں جو کہ گزشتہ روز درج ہونے والے 2ہزار641سے کہیں کم ہیں۔ جبکہ گزشتہ روز نئی ہلاکتوں کی تعداد 143بتائی گئی تھی۔تازہ ہلاکتوں میں سے چار کے علاوہ تمام افراد ہوبے سے تعلق رکھتے تھے۔یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے صوبہ ہوبے کا دارالحکومت ووہان 23جنوری سے مکمل لاک ڈاون ہے،سکول کاروبار اور دیگر معاملات زندگی منجمد ہوکر رہ گئے ہیں۔