کہیں ٹرمپ کی نظر نہ پڑ جائے ۔۔۔۔!!! امریکی صدر کے دورہ بھارت پر ان سے کیا شرمناک چیز چھپانے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے ؟ ڈوئچے ویلے کی دھماکہ خیز رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) احمد آباد کے سرنیا واس علاقے میں سات فٹ اونچی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب اپنے دورہ بھارت کے دوران وہاں سے گزریں تو ’تابناک بھارت‘ ہی حد نگاہ میں رہے اور دیوار کی دوسری طرف غربت اور گندگی ان کی توجہ حقائق کی طرف مبذول نہ کرا سکے۔

نامور صحافی جاوید ڈوئچے ویلے کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دو روزہ دورے پر24 فروری کو سب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کے آبائی صوبے گجرات کے شہر احمد آباد پہنچیں گے۔ وزیر اعظم مودی احمد آباد ہوائی اڈے پر امریکی صدر کا خیر مقدم کریں گے۔ صدر ٹرمپ اس کے بعد سابرمتی آشرم جائیں گے، جو بھارت کی جدوجہد آزادی کے دوران مہاتما گاندھی کی جائے رہائش رہی تھی۔ہوائی اڈے سے مہاتما گاندھی کے سابرمتی آشرم تک دس کلومیٹر کے راستے کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا ہے۔ انہی راستوںر دونوں رہنماؤں کا روڈ شو بھی ہو گا۔ پروگرام کے مطابق سڑک کے دونوں کناروں پر لاکھوں لوگ امریکی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کا استقبال کرنے کے لیے کھڑے رہیں گے۔سرنیا واس کی کچی بستی اسی راستے پر ہی واقع ہے۔اس بستی میں تقریباً پانچ ہزار افراد رہتے ہیں۔ بیشتر کے مکانات کچے ہیں اور کھلی نالیوں سے پانی بہتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے ہر طرف گندگی پھیلی ہوئی ہے۔مودی حکومت امریکی صدر کے سامنے بھارت کی روشن تصویر پیش کرنا چاہتی ہے اور اس بات کی پوری کوشش کر رہی ہے کہ بھارت کی کوئی منفی تصویر ان کے سامنے آنے نہ پائے۔ اسی مقصد کے مدنظرسرنیا واس کی پوری کچی بستی کے سامنے نصف کلو میٹر طویل اور سات فٹ اونچی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ جب امریکی صدر کا قافلہ ادھر سے گزرے سے تو اس کچی بستی پر ان کی نگاہ پڑنے نہ پائے۔ لیکن بستی کے مکینوں کے علاوہ حقوق انسانی کے لیے

سرگرم کارکنوں نے بھی حکومت کے اس اقدام کی مخالفت شروع کر دی ہے۔احمد آباد میں مقیم صحافی رتھین داس نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا، ”ایسا پہلے بھی اکثر ہوتا رہا ہے لیکن پہلے جب کبھی کوئی سربراہ مملکت یہاں آتا تھا تو کچی بستیوں کے سامنے رنگین کپڑے لگا دیے جاتے تھے۔ مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور ریاست میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ’وائبرینٹ گجرات‘ کے عنوان سے نمائش کا اہتمام کرایا کرتے تھے، اس وقت بھی ان بستیوں کے سامنے پردے لگا دیے جاتے تھے، البتہ یہ پہلا موقع ہے جب ان کچی بستیوں کے سامنے مستقل دیوار تعمیر کی جا رہی ہے۔ لیکن اس طرح سے غربت کو چھپایا نہیں جاسکتا۔“احمد آباد سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن پریتی داس نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”پہلے بھی جب چینی صدر شی جن پنگ، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے احمد آباد آئے تھے تو غربت کو چھپانے کے لیے کپڑے ڈال دیے گئے تھے لیکن اس مرتبہ ایک قدم آگے بڑھ کر ان علاقوں میں دیوار کھڑی کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کا میکسیکو سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا منصوبہ تو ابھی شروع نہیں ہوا ہے لیکن بھارتی وزیر اعظم نے اس سے پہلے ہی اس طرح کی دیوار تعمیر کرا دی۔“پریتی داس کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے اس اقدام کے خلاف کوئی سامنے آکر اس لیے مظاہرہ نہیں کر رہا ہے کیوں کہ انتظامیہ نے یہاں مستقل طور پر امتناعی احکامات نافذ کر رکھے ہیں، جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کا ایک ساتھ جمع ہونا غیر قانونی ہے۔احمدآباد میں اس دیوار کی تعمیر نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ اپوزیشن کانگریس نے دیوار کی تعمیر پر بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سینیئر رہنما اور ترجمان رن دیپ سنگھ سرجے والا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”یہی تو ہے ’صاحب‘ کا گجرات ماڈل۔ ترقی مت کرو۔ پسماندگی کو چھپا دو اور نگاہوں کے سامنے سے ہٹادو۔ تمام ناپسندیدہ موضوعات اور ناکامی کو چھپا کر ہی تو وہ یہاں تک پہنچے ہیں۔ درست ہے، مودی ہے تو ممکن ہے۔” خیال رہے کہ بھارت میں وزیر اعظم مودی کو طنزیہ طور پر ‘صاحب‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔(بشکریہ : ڈوئچے ویلے )