کرونا وائرس سے متاثرہ کتنے ہزار قتل کرنے کر پروگرام بنا لیا گیا ،تہلکہ خیز انکشافات مںظر عام پر آگئے

بیجنگ (ویب ڈیسک ) کرونا وائرس سے متاثرہ 20 ہزار افراد کو قتل کرنے کی تیاریوں کی افواہیں، ہنگامی ردعمل دے دیا گیا، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر جعلی قرار، افواہ ایک جعلی خبریں چلانے والی ویب سائٹ کی جانب سے پھیلائی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویب سائٹ کی جانب سے افواہ پھیلائی گئی ہے کہ چینی حکومت نے ملک کی اعلی ترین عدالت سے اجازت طلب کی ہے، کہ ملک میں کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے اس مرض سے

متاثرہ 20 ہزار افراد کو ہلاک کرنے کی اجازت دی جائے۔اس حوالے سے عدالت جلد فیصلہ سنائے گی۔ تاہم اب اس حوالے سے تحقیق کے بعد بتایا گیا ہے کہ خبر سراسر جھوٹ ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلانی والی ویب سائٹ جھوٹی و جعلی خبریں پھیلانے کیلئے مشہور ہے۔اس ویب سائٹ نے ایک مرتبہ پھر جھوٹی خبریں پھیلانے کی روایت برقرار رکھی ہے اور کرونا وائرس کے حوالے سے جھوٹی خبر پھیلا کر لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی ہے۔دوسری جانب چینی حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلنے کے نتیجے میں ملک میں مجموعی طور پر 722 افراد اس مہلک وائرس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔کرونا پھیلنے کے مرکزی علاقے ھوبی میں مزید 3399 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد اس وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 31 ہزار 774 ہوچکی ہے۔ادھر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل، ٹیڈروس اذانم گبریوس نے اعلان کیا کہ دنیا کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لئے کپڑوں، ماسک، دستانے اور دیگر حفاظتی آلات کی کمی کا سامنا ہے۔جینیسوس نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دنیا کو انفرادی حفاظتی آلات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینوفیکچررز اور تقسیم کاروں سے بات کی گئی ہے تاکہ وہ کرونا سے بچائو کے لیے آلات کی جلد اور زیادہ پیداوار کو یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دو دنوں میں چین میں انفیکشن کے کم واقعات کی اطلاع ملی ہے اور یہ ایک خوشخبری ہے لیکن ہم اس کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔ان کی طرف سے ورلڈ ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا کہ ہم نے کروناکی ممکنہ انفیکشن کی تشخیص کے لیے 250,000 ٹیسٹ بھیجے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وائرس کے بارے میں جان بوجھ کر غلط معلومات بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔