نہرو نے کس لالچ میں ہندوستان کی تقسیم کی حمایت کی تھی ؟ مودی نے نیا شوشا چھوڑ دیا

نئی دہلی (ویب ڈیسک ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ جواہر لال نہرو نے بھارت کا وزیراعظم بننے کے لیے ہندوستان کو تقسیم کروایا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی صدر کی تقریر پر لوک سبھا میں بحث کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1950میں

لیاقت-نہرو پیکٹ پر دستخط ہوئے تو اس میں لکھا گیا کہ پاکستان میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک نہیں ہوگا، اس وقت نہرو نے معاہدے میں صرف اقلیتوں کے تحفظ کی بات کیوں کی؟ نریندر مودی نے کہا کہ یاد رہے کہ اس معاہدے میں بھارت نے بھی یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے ملک میں اقلیتوں کا تحفظ کرے گا۔ نریندر مودی نے کانگریس پر سکھ کش فسادات کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ کانگریس نے ان فسادات میں ملوث رہنما کمل ناتھ کو مدھیہ پردیش کا وزیراعلیٰ بنا دیا ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے کہا ہے کہ کشمیر تقسیم پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ ہے جس کی تصدیق اقوام متحدہ کی قراردادیں کرتی ہیں، پانچ اگست کے بعد مسئلہ کشمیربین القوامی سطح پر تسلیم کیا گیا، بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی گجرات کے مسلمانوں کا قاتل اور بابری مسجد کے گرائے جانے کا ذمہ دار ہے۔لاہور میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سید فخرامام نے کہا کہ چین نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں دوبارہ اجاگر کرنے کے لیے انتہائی مثبت کردار ادا کیا اور اسی وجہ سے روس نے بھی مخالفت نہیں کی،کشمیر کا دفاع پاکستان کادفاع ہے، کشمیر پر بھارت نے دراندازی کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پانچ اگست سے پہلے دنیا میں بھارت کا بیانیہ تسلیم کیا جاتا تھا کہ دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہے لیکن بھارت کے کشمیریوں کے خلاف اقدامات کے بعد دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ بھارت دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کشمیر کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے، نوجوان طلبا دنیا بھر میں ہونے والی تبدیلیوں اور خطے میں اس کے اثرات پر تحقیق کریں۔