سعودی عرب میں کفیل کے نظام کا خاتمہ ۔۔۔۔ اب کیا طریقہ کار ہو گا ؟ بڑے کام کی خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں کفالہ کا نظام بہت ختم کر دیا جائے گا ۔ اس بات کا انکشاف سعود ی عرب گزٹ نے بے نامی ذرائع کے حوالے سے ایک میں کیا گیا ہے ۔ مقامی اخبار میں میں شائع رپورٹ کے مطابق سعودی گزٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے

کہ کفالہ نظام کے نقصانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے ویزے کی تجار کی بلیک مارکیٹ پھلتی پھولی ہے۔ کفالہ کے موجودہ نظام کے تحت تارکین وطن ورکر اپنے آجروں یا کفیلوں کی وضع کردہ ملازمت کی شرائط کے پابند ہوتے۔ دوسری جانب ایک خبر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، کویت اور دیگر خلیجی ممالک میں اکثر مقامی اور غیر مُلکی ملازمین روبوٹ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے خوف زدہ ہیں۔ العربیہ نیٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں 75فی صد ملازمین ”روبوٹ“ ٹیکنالوجی سے خوف زدہ ہیں۔ بین الاقوامی فرموں کے نیٹ ورک پی ڈبلیو سی نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور روزگار کے مواقع پر اس کے اثرات کے حوالے سے ایک سروے کرایا ہے۔اس میں ڈیجیٹل انقلاب اور مطلوبہ مہارتوں کے حوالے سے ملازمین کی آراء کے بارے میں معلوم کیا گیا ہے۔اس سروے میں دنیا بھر سے 22 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ ان میں 2000 افراد کا تعلق مشرق اوسط کے ممالک سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق روبوٹس اور ڈیجیٹل تبدیلی نے بہت سے لوگوں کو اس خوف میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گیجبکہ ایسے افراد کی تعداد بہت تھوڑی ہے جو یہ جانتے ہیں کہ روزگار کی منڈی میں جدید ترقی اور نت نئی ایجادات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے۔سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے 75فی صد افراد کے نزدیک روبوٹ ان کی ملازمتوں پر قبضہ جمالیں گے۔ خلیج میں صرف دو فی صدشرکاء اپنے روزانہ کے کام میں جدید ٹیکنالوجی کے اثرات کے حوالے سے مثبت رجحان کے حامل ہیں۔ خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے سروے کے 86فی صد شرکاء کے خیال میں ٹیکنالوجی مستقبل میں ملازمتوں کے مواقع بہتر بنانے میں کردار ادا کرے گی۔