بریگزٹ کے بعد یورپ اور برطانیہ کے مابین سخت مذاکرات متوقع

لندن (ویب ڈیسک ) برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کے بعد مستقبل کے حوالے سے یورپی یونین اور لندن حکومت کے مابین سخت مذاکرات کی توقع کی جا رہی ہے۔یورپی کمیشن کی خاتون سربراہ اورزلا فان ڈئیر لائن کا کہنا تھا کہ وہ برطانیہ کو صرف ’کِشمش کے دانے چٴْننے‘ نہیں دیں گی۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن یورپی یونین کے ساتھ کسٹم مذاکرات کے بغیر ہی کینیڈا کی طرز کا ایک آزادانہ تجارتی معاہدہ چاہتے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے پاس ایسا کوئی بھی معاہدہ کرنے کے لیے رواں برس کے اختتام تک کا وقت ہے۔مزید پڑھئیے ::واشنگٹن (ویب ڈیسک ) جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی عملی طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے دوران گواہان کو بلانے کے خلاف ووٹ دیا۔امریکی سینیٹ میں ریپبلکن کے 51 ارکان نے گواہان کو نہ بلانے کی حمایت کی جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی کے 49 ارکان نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا۔سینیٹ میں حزب اختلاف کی ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک رکن چک شومر نے اس کو کانگریس کی تاریخ کے ’’بدترین واقعات‘‘ میں سے ایک قرار دیا۔ ان کے مطابق گواہوں کے بغیر ٹرمپ کا کیس صرف ایک ’’فرضی مقدمہ‘‘ ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے بدھ کے روز متوقع ہے۔مزید پڑھئیے :: دُبئی(ویب ڈیسک )متحدہ عرب امارات میں بھی کرونا وائرس پہنچ گیا ہے۔ یہاں پر ایک چینی خاندان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، جنہیں فوراً اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جس کے بعد امارات میں بھی کرونا وائرس کے حوالے سے کھلبلی مچ گئی۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر خلیج ٹائمز کے نام سے ہی ایک جعلی خبر وائرل ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ وزارت تعلیم کی جانب سے امارات بھر میں اسکولوں کی بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔خبر کے مطابق 2 فروری سے امارات کے تمام اسکولز بند کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد امارات میں کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد یہاں مقیم بچوں کے تحفظ کو ممکن بنانا ہے۔سوشل میڈیا پر یہ جعلی خبر چند منٹوں میں ہی وائرل ہو گئی اور عوام اس پر یقین بھی کر بیٹھے۔تاہم اس حوالے سے وزارت صحت کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کوئی سکول کرونا وائرس کے خدشے کے باعث بند نہیں کیا جا رہا۔سکولوں میں پڑھائی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبر جھوٹی ہے اور کسی شر پسند کی جانب سے فوٹو شاپ کی مدد سے جعلی خبر تیار کی گئی ہے۔ حالانکہ اصل تحریر میں امارات میں مقیم افراد کو کرونا وائرس کے حوالے سے حفاظتی تدابیر احتیاط کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ دراصل یہ ایک آرٹیکل تھا جس کے ابتدائی حصّے کو فوٹو شا پ کر کے اس کی سُرخی بدل کر لگا دی گئی۔اس آرٹیکل میں یہ بتایا گیا تھا کہ اماراتی سکول کرونا وائرس کے حوالے سے آگاہی دلا رہے ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق متحدہ عرب امارات میں صرف ایک چینی خاندان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اب اُن کی حالت تسلّی بخش بتائی جا رہی ہے اور انہیں آج کے روز ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ اماراتی سرزمین کرونا وائرس کے حملے سے پوری طرح محفوظ ہے اور ایئر پورٹس پر بھی چین سے آنے والے مسافروں کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔