دنیا بے حس ہو گئی ، عرب ممالک کان کھول کر سن لیں اگر ہم برے بن گئے تو ۔۔۔۔۔ فلسطینی وزیراعظم نے پوری دنیا اور مسلم امتہ کو مخاطب کرکے بڑی بات کہہ ڈالی

لندن (ویب ڈیسک) فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ مشرقِ وسطی کے امن منصوبے کو مسترد کر کے فلسطینی رہنماؤں نے اپنے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔نمائندہ بی بی سی اورلا گیورن سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ

بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔۔ فلسطینی رہنماؤں نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے کسی علاقے کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تو فلسطین اور اسرائیل کے مابین اب تک ہوئے تمام معاہدے منسوخ کر دیے جائیں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مشرقِ وسطی امن منصوبے میں ایک محدود فلسطینی ریاست اور مقبوضہ مغربی کنارے پر آباد بستیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔فلسطینی وزیر اعظم کا کہنا ہے ’اگر ہم اس ڈیل (مجوزہ امن معاہدے) کو تسلیم کر لیتے تو ہمیں اچھا قرار دیا جاتا۔ سادہ سی بات یہ ہے کہ کیوںکہ ہم اپنی قومی سلامتی کے مسئلے پر ڈٹے ہوئے ہیں اس لیے ہم اب مزید اچھے نہیں رہے۔ اگر اچھا اور برا قرار دینے کا یہی پیمانہ ہے تو ہم برا بننے کو ترجیح دیں گے کیونکہ ہم اپنی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔‘وزیر اعظم محمد اشتیہ کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا قانونی حق ہے کہ فلسطین کو تسلط سے آزاد کروایا جائے اور یروشلم فلسطین کا دارالحکومت ہو اور اس کے لیے وہ ہمیں جو بھی کہتے ہیں انھیں کہنے دیں۔ان سے پوچھا گیا کہ فلسطین کی جانب سے امریکی انتظامیہ کا دسمبر 2017 سے جاری بائیکاٹ کا نقصان فلسطین کو ہوا ہے کیونکہ اس حوالے سے ہونے والی بات چیت کا وہ حصہ نہ بن سکے؟فلسطینی وزیر اعظم کا کہنا تھا ’ہم نے امریکی انتظامیہ کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ یہ امریکی انتظامیہ تھی

جس نے ہمیں بات چیت کے عمل سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔‘فلسطینی وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ آپ (فلسطین) کو امید تھی کہ عرب رہنما اور عرب ممالک اس معاملے پر فلسطین کا ساتھ دیں گے اور اس منصوبے کو مسترد کریں گے مگر ایسا نہیں ہوا؟’ہم چند عرب ممالک کی سیاسی مجبوریوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب وقت ایک واضح پوزیشن اختیار کرنے کا ہے۔ جو لوگ اس وقت ہمارے ساتھ نہیں ہیں وہ مستقبل میں اپنے آپ کو دوسری طرف (امریکہ اور اسرائیل) پر کھڑا پائیں گے اور یہ عرب ممالک کے لیے غیر معمولی ہو گا۔‘’ہمیں چند عرب ممالک سے فون کالز موصول ہوئی ہیں۔ چند عرب رہنماؤں نے ہمیں بتایا ہے کہ ہمارے سفیروں کی وائٹ ہاؤس میں موجودگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اس امن منصوبہ کی حمایت کرتے ہیں۔ شاید عرب ممالک کے چند سفیر وائٹ ہاؤس خیر سگالی دورے کے تحت گئے ہوں گے۔ میں نہیں سمجھتا کہ عرب ممالک فلسطینیوں کا سودا کریں گے۔‘جب ان سے پوچھا گیا کہ اس منصوبے کی مخالفت کر کے فلسطینی انتظامیہ وجود قائم رکھ پائے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس (منصوبے) سے پہلے بھی اپنا وجود قائم رکھتے آئے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ (منصوبہ) ہمارے فلسطینی ریاست کے خواب کو پورا کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔‘’فلسطینی صدر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو خط بھیج چکے ہیں کہ اگر انھوں نے مقبوضہ مغربی کنارے یا فلسطینی ریاست کے کسی بھی علاقے کو اپنے ساتھ ملانے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا تو ہمارے درمیان موجود تمام سیاسی، سکیورٹی، معاشی معاہدے منسوخ کر دیے جائیں گے۔‘وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا ’مجھے فلسطینی ریاست کا خواب پورا ہونے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات کا یقین یہ ہے کہ آپ (اورلا گیورن) اس وقت میرے سامنے بیٹھی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ فلسطینی مسئلے کا حل ہو گا شاید اب یا بعد میں۔۔۔ مگر آئندہ نسل ایسی فلسطینی ریاست لازماً دیکھے گی۔‘