امریکہ کو شدید مشکلات کا سامنا…….. خسارہ کتنے کھرب ڈالر تک جا پہنچا؟جانئیے

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) رواں مالی سال کے دوران امریکہ کا سالانہ بجٹ خسارہ دس کھرب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے جبکہ ملکی قرضہگزشتہ 75 برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے۔جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) نے اپنے تازہ ترین مالیاتی تخمینے

میں یہ بھی کہا کہ ریاست کے ذمہ واجب الادا بے تحاشا قرضوں اور ان میں مسلسل اضافے کی موجودہ صورت حال میں جلد کوئی بہتری ہوتی بھی دکھائی نہیں دیتی۔بجٹ آفس کے مالیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ رواں عشرے کے دوران امریکی بجٹ کا خسارہ اوسطا ً1.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ یہ پیش رفت، جو ایک طویل عرصے سے جاری ہے، اس لیے بھی بہت پریشان کن ہے کہ امریکی ریاست کے ذمہ قرضوں کی موجودہ مجموعی مالیت اس وقت مجموعی ملکی پیداوار کے 81 فیصد کے برابر ہے، جو 2030ء تک مزید بڑھ کر 98 فیصد تک پہنچ جائے گی۔سی بی او کے مالیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ریاست کے ذمہ قرضوں کی یہ مجموعی مالیت اتنی زیادہ ہے جو گزشتہ تین چوتھائی صدی کے دوران کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ ان ماہرین کے بقول رواں دہائی کے دوران ہی یہ ریاستی قرضے 1946ء کے بعد سے آج تک کی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جائیں گے۔ماہرین کے مطابق خسارے کے بجٹ میں بہت زیادہ اضافے کی وجہ ٹیکسوں میں دی جانے والی وہ چھوٹ بھی ہے، جس کا اعلان 2017ء میں کیا گیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن تاہم ان دعووں کو مسترد کیا ہے۔بجٹ میں سالانہ خسارے کے مسلسل زیادہ ہونے کے شدید نقصانات کے پیش نظر سٹیون منوچن نے یہ اعتراف کیا کہ اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ ریاستی اخراجات میں بے تحاشا اضافے کی موجودہ شرح بھی کم کی جانا چاہیے۔