کرونا وائرس بالآخر ملکی معیشت پر اثر انداز ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ حقائق جان کر دنگ رہ جائیں گے ،جانئیے

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) چین میں کرونا وائرس نے تباہی پھیلا دی ہے۔کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 130سے تجاوز کر گئی ہے۔برٹش ائیرویز اور انڈونیشیا کی ائیر لائن نے چین کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی۔جاپانی کارساز کمپنی ٹویوٹا نے 9 فروری تک چین میں اپنے پلانٹس بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔روسی ائیر لائن نے پیرس،روم سمیت کچھ یورپی ممالک کے لیے بھی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

امریکہ اور کینیڈا نے اپنے شہریوں کے لیے سفری وارننگ جاری کر دی ہیں۔ پیر کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مدد کی پیش کش کی ہے ۔جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی شہریوں کو چین کا سفر کرنے سے قبل سوچنا چاہیے۔جاپان نے اپنے شہریوں کو ووہان شہر سے نکالنے کے لیے خصوصی طیارہ روانہ کر دیا ہے۔کرونا وائرس انسانوں کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کو بھی نگلنے لگا ہے اور وائرس کے پھیلاﺅسے دنیا کی کئی بڑی سٹاک مارکیٹس کریش کرگئی ہیں۔ یہ وائرس دیگر ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جرمنی اور نیوزی لینڈ نے بھی کرونا وائرس کی تصدیق کی ہے.کرونا وائرس سے جہاں ہلاکتیں ہو رہی ہیں وہیں چینی قمری سال کے آغاز کے موقع پر پھوٹنے والی اس وبا سے عالمی منڈیاں بھی ہل کر رہ گئی اور کئی بڑی سٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں، تیل کی قیمتیں تین ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں اور چینی کرنسی یوآن کی قدر رواں سال کی کم ترین سطح تک گر گئی ہے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کے لیے سفری پابندیوں کے باعث سرمایہ کار پریشانی کا شکار نظر آ رہے ہیں.امریکی جریدے نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں نے مزید مالی نقصان سے بچنے کے لیے عالمی ادارہ صحت(ڈبلیوایچ او ) اور گلوبل ہیلتھ سیکورٹی ڈویڑن کو خبردار کیا ہے کہ عالمی ہیلتھ ایمرجنسی کے نفاذکی صورت میں دنیا کے بڑے ممالک اور کارپوریشنز دونوں عالمی اداروں کی فنڈنگ بند کردیں گے .رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی عالمی ادارے کو اقدامات کرنے سے بلیک میلنگ کرکے روکا گیا ہو بلکہ ماضی میں بھی عالمی سطح کی کارپوریشنزاکثربراہ راست یا حکومتوں کے ذریعے ایسے معاملات میں ملوث رہی ہیں .