جعلی اقامے پکڑے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اہم شخصیات کے نام چھپانے کے لیے دباو،جانئیے

مکہ (ویب ڈیسک ) دو غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے قبضے سے 24 سو 98 جعلی اقامے ضبط ہوئے ہیں۔سبق ویب سائٹ کے مطابق مکہ پولیس کے ترجمان میجر محمد بن عبد الوہاب الغامدی نے کہا ہے کہ ’ادارہ انسداد جعلسازی نے شہر میں شناختی دستاویزات کے علاوہ ڈرائیونگ لائسنس اور میڈیکل انشورنس کارڈ میں جعلسازی کرنے والے ایک گروہ کا سراغ لگایا ہے۔‘ انہوں نے کہا ہے کہ ’مکہ پولیس اور محکمہ خفیہ کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں دو افراد پر مشتمل گروہ گرفتار ہوا ہے۔ ان میں سے

ایک انڈین اور دوسرا صومالیا کا ہے۔‘ ترجمان نے بتایا ہے کہ ’جعلسازوں کے ٹھکانے کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے 24 سو 98 جعلی اقامے ضبط ہوئے۔ جعلسازوں کے پاس اقامے پرنٹ کرنے کے آلات اور سرکاری اداروں کی جعلی مہریں بھی تھیں۔‘ مزید پڑھئیے : ریاض (ویب ڈیسک ) سعودی پولیس کی جانب سے ایک مقامی نوجوان کو ایک یونیورسٹی کی طالبات سے متعلق انتہائی بے ہودہ گفتگو کرنے اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔سعودی میڈیا کے مطابق یہ نوجوان ایک عوامی مقام پر کھڑے ہو کر بڑی ڈھٹائی سے طالبات کے بارے میں شرمناک فقرے بول رہا تھا۔ اس نوجوان نے ان طالبات پر کئی الزامات لگانے کے علاوہ انہیں گالیاں بھی بکی تھیں۔اس عورت بیزار نوجوان نے یہیں پر بس نہیں کی بلکہ سڑک سے گزرنے والی کچھ لڑکیوں کی تصاویر بھی بنا ڈالیں ان کے ساتھ گھٹیا کیپشن تحریر کر کیے۔ نوجوان کی دیدہ دلیری کی حد یہ تھی کہ اس نے انجام کی پرواہ کیے بغیر اپنی اس اخلاق سے گری گفتگو پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کر دی تھی۔جونہی یہ غیر مہذب گفتگو والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تو صارفین شدید مشتعل ہو گئے اور اس بدکلام شخص کی فوری طور پر گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کر ڈالا۔بعض صارفین نے اس ویڈیو کی رپورٹ پولیس کو کر دی ۔ اس حوالے سے پبلک پراسیکیوشن کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ مملکت میں واقع ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات سے متعلق ’غیر مہذب‘ گفتگو کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا، جسے گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ملزم کے خلاف فوجداری قانون کی دفعہ 17 کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔کیونکہ سعودی قانون کے تحت کسی شخص کو دوسرے پر بہتان باندھنے اوراس کی نجی زندگی کے بارے میں رائے زنی کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ سعودی عرب میں نجی زندگی میں مداخلت کے حوالے سے نئے ضوابط متعارف کروائے گئے ہیں جن کے تحت کسی شخص سے اُس کی عمر، تنخواہ، شادی اور بچوں کے بارے میں سوال کیے جانے پر بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر کسی مرد یا خاتون کی جانب سے کسی اجنبی سے اس نوعیت کے سوالات پوچھے جانے کی شکایت درج کرائی جاتی ہے تو پھر ملزم کے خلاف 3 ہزار ریال تک کا کمر توڑ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک یمنی نوجوان کو سعودی خاتون کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔سعودی عدالت کی جانب سے ملزم کو صرف دس روز کی قید سُنائی گئی تھی ۔ اس کی وجہ ملزم کا کوئی سابقہ جرائم کا ریکارڈ نہ ہونا تھا۔ استغاثہ کے مطابق یمنی نوجوان نے جدہ کی ایک مارکیٹ میں سعودی خاتون کو دیکھا تو اس کے حُسن پر فدا ہو گیا۔نوجوان نے سعودی لڑکی کی بڑی ہوشیاری سے مارکیٹ میں تصویر بنا لی اور پھر بعد میں سنیپ چیٹ کے ذریعے اُس سے رابطہ بنانے کی کوشش کی۔ تاہم جب سعودی خاتون کے بھائی کو اس بات کا پتا لگا تو اس نے فوری طور پر پولیس میں رپورٹ کر دی۔ جس پر یمنی نوجوان کو گرفتار کر کے اُس کا موبائل سیٹ بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے دورانِ تفتیش اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اُس نے خاتون کی تصویر اُتاری اور پھر اُس سے سوشل میڈیا ویب سائٹ سنیپ چیٹ پر رابطہ بڑھانے کی کوشش کی ۔