کورونا وائرس عالمی معیشت اثر اندازہ ہونے کا خدشہ ۔۔۔۔۔ کاروباری لوگ مستقبل کے بارے میں پریشان ہو گئے ،جانئیے

چین( ویب ڈ یسک )پھیلنے والے وبائی مرض کورونا وائرس کی وجہ سے سعودی عرب اور چین کے درمیان تجارت میں کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ سعودی عرب میں کاروباری حضرات نے اس پر ملے جلے تاثرات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق چین میں پھیلی اس وباء کے بعد کچھ لوگ میڈیا پر الزامات لگا رہے ہیں کہ میڈیا میں اس کی کچھ زیادہ ہی تشہیر کی جا رہی ہے جبکہ کچھ

لوگ حقیقت میں اپنے کاروباری مستقبل کے بارے میں پریشان نظر آرہے ہیں۔مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے کئی افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ بیجنگ اس صورتحال سے جلد ہی احسن طریقے سے نمٹ لے گا، اس مرض کو پھیلنے سے روکنے پر جلد قابو پا کر اس کے مکمل خاتمے پر کام ہو رہا ہے۔ تعمیراتی سامان کی پیداواری صنعت میں سرمایہ کاری کرنے والی شخصیت خالد الشلیل نے کہا ہے کہ میڈیا کے ذریعے چین کی موجودہ صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد چین کی معیشت کو نقصان پہنچانا بھی ہو سکتا ہے۔کورونا وائرس سے زیادہ متاثر چین کا مرکزی شہر ووہان ہے جس کے باعث اس کے اثرات نقل و حمل اور شپنگ کے اخراجات میں اضافے کی صورتحال میں سامنے آسکتے ہیں۔اس سے قبل بھی صحت کے متعلق مختلف وبائی امراض سے احسن طریقے سے نمٹ لیا گیا ہے۔ ان میں سارس اور سوائن فلو جیسے وبائی امراض کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاشی تنازعات ہیں جن کا مقصد چین کی معیشت کی آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔ایک اور کاروباری شخصیت محمد فضل الرحمٰن نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس پر جلد قابو نہ پائے جانے سے ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ موجود ہے۔ اس کے سبب سعودی عرب کے تاجر حضرات نے وقتی طور پر چین کا سفر ترک کر دیا ہے جس سے کاروبار کے کئی شعبوں میں پیش رفت سست ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔