محکمہ صحت افسران کی شامت ……..! اچانک درجنوں افسران کومعطل کر دیا گیا ،جانئیے

طائف (ویب ڈیسک ) سعودی شہر طائف کے سرکاری ہسپتالوں اور صحت مراکزمیں غیر حاضر، ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوتاہی برتنے والے اور معیاری سروس فراہم نہ کرنے والے 20 اہلکاروں اور طبی عملے کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔طائف محکمہ صحت کے ترجمان عبد الہادی الربیعی نے کہا ہے کہ ’محکمہ صحت طائف کے سربراہ سعید بن جابر القحطانی نے ہسپتالوں اور

صحت مراکز کا خفیہ دورہ کر کے متعدد خلاف ورزیاں پکڑی ہیں‘۔جن مراکز کا دورہ کیا گیا ان کی سروس 24 گھنٹے ہونی چاہیے تھی جہاں مریضوں کو تمام خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’محکمہ صحت نے اپنے ماتحت اداروں کی خدمات کا معیار بہتر کرنے اور اس کا جائزہ لینے کے لیے خفیہ اہلکار تعینات کر رکھے ہیں جو عام مریض بن کر اداروں کا دورہ کرتے ہیں‘۔مزید جانئیے : جدہ (ویب ڈیسک )سعودی عرب کی قومی زبان عربی ہے۔ سعودی باشندے 20 سے زیادہ مقامی لہجوں میں عربی بولتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ، تعلیم اور سرکاری معاملات میں فصیح عربی زبان ہی کا رواج ہے۔سعودی میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں نجد، حجاز، قطیف اور جنوب کے لہجے زیادہ رائج ہیں۔۔ سعودی ’مھری‘ اور ’خولانی‘ زبانیں بھی بولتے ہیں۔جزیرہ عرب میں کئی قدیم زبانیں ماضی کا افسانہ بنتی جارہی ہیں۔ان میں المھرہ قبائل کی المھری زبان قابل ذکر ہے۔ مھری دنیا کی ان زبانوں میں سے ایک ہے جو ناپید ہوتی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں سات ہزار زبانیں ریکارڈ پر آئی ہیں۔زبانوں کے ماہرین کا کہناہے کہ ہر دو ہفتے میں ان میں سے ایک زبان ختم ہوجاتی ہے۔ رواں صدی کے اختتام تک پچاس فیصد زبانیں فنا ہوجائیں گی۔جزیرہ نما عرب میں پانچ زبانیں بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان سب کا تعلق سامی زبانوں سے ہے۔ مھری زبان ان میں سے ایک ہے۔ اس کے بولنے والوں کی تعداد ایک سے دو لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔ مزید پڑھئیے : بیجنگ (ویب ڈیسک )چینی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل آرمز کنٹرول فو سونگ نے برسلز میں میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں ہرگز این پی ٹی معاہدے کے خلاف نہیں ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران عالمی جوہری ادارے کے فریم ورک کے مطابق کام کر رہا ہے اور اس نے این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔فو سونگ نے جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی سفارتی کوششوں کی گنجائش موجود ہے اور ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ ‘این پی ٹی’ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہی.۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حالیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ 3 یورپی ممالک کی جانب سے تنازعات کے حل کے میکنزم کو فعال بنانے سے مسائل کو کم کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔