ماں مارتی رہی ،باپ ویڈیو بناتا رہا۔۔۔!!! بچی پر ظلم کرنے والے والدین کا تعلق کہاں سے نکل آیا ؟ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے دونوں کو گرفتار کر لیا

لاہور( ویب ڈیسک)سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک خاتون کو کم سن بچی پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر کئی کارکن سرگرم ہو گئے اور بچی پر بے تحاشا تشدد کرنے والی خاتون کے خلاف سخت ایکشن لینے اور اسے

کڑی سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ آیا اس خاتون اور بچی کا تعلق پاکستان سے ہے یا بھارت سے ۔تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق جموں و کمشیر کے ایک میڈیا ہاؤس جموں لنکس نے ایک رپورٹ میں کہا کہ اس ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون اور بچی کو شناخت کرلیا گیا ہے اور ان کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کاٹھوا سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو تشدد کا نشانہ بننے والی بچی کے باپ نے 2 ماہ قبل چھپ کر بنائی لیکن کشمیر میں انٹرنیٹ منقطع ہونے کی وجہ سے حال ہی میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی۔انڈین چائلڈ ویلفیئر بورڈ نے بچی کے ماں باپ پر مقدمہ درج کرکے دونوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار جوڑے کے ایک پڑوسی نے ”جموں لنکس” کو بتایا کہ ان کے دو بچے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان روزانہ لڑائی ہوتی اور پھر بچوں پر بھی تشدد کرتے رہتے تھے۔ خیال رہے کہ بچوں پر تشدد کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ دنیا بھر بالخصوص جنوبی ایشیا میں ایسے کئی واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جہاں والدین آپس میں ہونے والے لڑائی جھگڑوں کا سارا غصہ اپنے بچوں پر تشدد کر کے نکال دیتے ہیں۔بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کے کارکنان کے مطابق گھر میں لڑائی جھگڑے دیکھنے اور والدین کو اکثر و بیشتر ایک دوسرے سے جھگڑتے ہوئے دیکھنے سے بچوں کی ذہنی نشوونما اور سوچ پر بہت فرق پڑتا ہے۔ ایسے بچے یا تو ذہنی طور پر بہت حساس ہوتے ہیں یا پھر بڑے ہو کر وہ بھی وہی کام کرتے ہیں جو انہوں نے بچپن میں دیکھا ہوتا ہے۔