ایرانی صدر حسن روحانی اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے درمیان اختلافات ۔۔۔۔۔ مگر کس بات پر ؟ پوری دنیا میں ہلچل مچا دینے والی خبر

تہران (ویب ڈیسک) ایران کی اعلیٰ قیادت کے مابین امریکا سے مذاکرات کی حمایت اور مخالفت کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے امکانات موجود ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد

سخت گیرسپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب اخبار نے صدر روحانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔اورکہا کہ مذاکرات اور مزاحمت کے بارے میں صدر روحانی کے بیانات متضاد اور رہبر انقلاب کی ہدایات کے منافی ہیں۔خامنہ ای نے تہران میں ایک تقریرمیں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کرنے سے ہمارے مسائل حل ہوجاتے ہیں وہ 100 فی صد غلطی پر ہیں۔ امریکیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ وہ یقینی طور پر کوئی مراعات نہیں لائیں گے۔ قبل ازیں صدر حسن روحانی نے ایک تقریب سے خطاب میں کہ مزاحمت صرف نعروں سے نہیں ، بلکہ سائنس ، علم ، کوشش ، کام اور گفت و شنید کے ساتھ ہے بھی ہوتی ہے۔ مزاحمت مذاکرات کے منافی نہیں ہے بلکہ اس سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک بار پھر یورپی یونین کو پناہ گزین کارڈ کی دھمکی دی ہے اورکہاہے کہ اگر یورپ کی طرف سے ترکی کو پناہ گزینوں کے حوالے سے مدد فراہم نہ کی گئی تو وہ پناہ گزینوں کے سمندر کو یورپ کے لیے کھول دے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق بڈاپسٹ میں ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطابکرتے ہوئے اردوآن نے کہا کہ ان کا ملک اس وقت پناہ گزینوں کے لیے یورپ جانے والے راستے کھول دے گا جب اسے یوروپی یونین کی طرف سے بھرپور تعاون حاصل نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی اس بوجھ کو عرصے تک برداشت نہیں کرسکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ چاہے ہمیں تعاون ملے یا نہ ملے ، ہم مہمانوں کی مدد کرتے رہیں گے لیکن اگریورپ ہماری مدد نہیں کرتا تو ہمیں دروازے کھولنا پڑیں گے۔