وہی ہوا جس کا ڈ ر تھا۔۔۔۔امریکہ نے سعودی عرب پر جاسوسی کا الزام عائد کردیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک )امریکی عدالت نے دو ٹوئٹر ملازمین سمیت 3 افراد پر سعودی عرب کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کردی۔سان فرانسسکو کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک مقدمے کے دوران بتایا گیا کہ سعودی حکام نے شاہی خاندان پر تنقید کرنے والے پرائیویٹ ٹوئٹر اکاو¿نٹس، ان کے ای میل ایڈریس اور صارفین

کی لوکیشن کا پتہ چلانے کے لیے ماہر ٹوئٹر ملازمین کو بھرتی کیا۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ٹوئٹر ملازمین کو ایسے صارفین کا پتہ لگانے کی ذمہ داری سونپی جو میڈیا سے وابستہ بڑی شخصیات ہوں اور ان کے 10 لاکھ سے زائد فالوورز ہوں لیکن کسی کا نام نہیں بتایا گیا۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق دو سعودی اور ایک امریکی شہری سعودی حکومت اور شاہی خاندان کی ایما پر تنقید کرنے والے ٹوئٹر اکاو¿نٹس کے مالکان کا پتہ لگاتے تھے۔امریکی عدالت کے مطابق ان ٹوئٹر ملازمین کو ایک اعلی سعودی آفیشل ہدایات جاری کرتا تھا جس کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ طور پر سعودی شاہی خاندان کا فرد ہے۔امریکی عدالت نے جن تین افراد پر جاسوسی کی فرد جرم عائد کی ہے ان میں ٹوئٹر کے دو سابق ملازمین علی الزبارہ اور احمد ابو عمو کے علاوہ امریکی شہری احمد المطیری شامل ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق تجزیہ کار مظہر عباس نے کہاہے کہ ر یاست اس لئے کمزور ہورہی ہے کہ ریاست کے چاروں ستونوں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، پاکستان کے الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوتی لیکن بہت خوبصورت انداز میں منیج کئے جاتے ہیں۔جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے مظہرعباس نے کہا کہ ریاست اس لئے کمزور ہورہی ہے کہ ریاست کے چاروں ستونوں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، پاکستان کے الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوتی لیکن بہت خوبصورت انداز میں منیج کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جب بھی ڈیل کرتے ہیں ، ان کو فوائد حاصل ہوتے ہیں اور جب ڈیل نہیں کرتے تو ان کو نقصانات ہوتے ہیں۔ نواز شریف کوایک ڈیل کے نتیجے ہی میں اقتدار میں لایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں جن کی بناءپرہم کہہ سکیں کہ ڈیل ہوئی ہے ۔مظہر عباس نے کہا کہ چودھری غلام سرور عمران خان کی کابینہ کے وزیر ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ڈیل ہوئی ہے ۔ان کی بات کا نوٹس سب سے پہلے عمران خان کولینا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کویہ بات ماننی پڑے گی کہ کونسا جوڈیشل فورم ہو جو یہ فیصلہ کرے کہ 2018کے الیکشن دھاندلی زدہ تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیشکش بری نہیں ہے ، صرف اپوزیشن جماعتوں کے الیکشن کو دھاندلی زدہ کہنے سے حکومت گھر نہیں جاسکتی ۔