سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات کے دورے پر پہنچنے والے روسی صدر پوٹن نے جاتے ہی کیا بڑا کام کر ڈالا ؟ پوری دنیا دنگ رہ گئی

دبئی(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات اور روس کے تعلقات 48 سال پر محیط ہیں جب سابقہ سوویت یونین یو ایس ایس آر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان متحدہ عرب امارات کے قیام کے چھ دن بعد 8 دسمبر 1971 کو سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ یو ایس ایس آر نے 1986 میں ابوظبی میں اپنا سفارت

خانہ قائم کیا جس کے فورا بعد ہی متحدہ عرب امارات نے 1987 میں ماسکو میں اپنا سفارت خانہ کھولا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے دسمبر 1991 میں روسی فیڈریشن کو یو ایس ایس آر کی جانشین ریاست تسلیم کیا۔ امتحدہ عرب امارات اور روس نے دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر اعلی سطح دوروں کے ذریعے اپنے سفارتی تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔ روس کے صدر ولادمیر پوٹن نے ستمبر 2007 کو متحدہ عرب امارات کا پہلا سرکاری صدارتی دورہ کیا۔ 2009 میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے روس کا دورہ کیا۔ ابو ظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان نے 2006 سے 2018 تک روس کے کئی سرکاری دورے کیے۔ اپریل 2017 میں شیخ محمد بن زاید اور صدر پوٹن نے سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے دونوں ممالک کے مابین اسٹراٹیجک پارٹنرشپ کی منظوری دی۔ جون 2019 میں دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک شراکت داری کے اعلامیے پر دستخط کئے۔اب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے دورہ متحدہ عرب امارات کے دوران روس اور متحدہ عرب امارات نے 1.4ارب ڈالر مالیت کے معاہدے کیے ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کردیئے۔ متحدہ عرب امارات کے خبررساں ادارے وام اور آر ٹی کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹین اور ولی عہد ابوظبی اور اماراتی افواج کے نائب سربراہ اعلیٰ شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے مذاکرات کئے۔روسی صدر منگل کو ہی سعودی عرب سے متحدہ عرب امارات کے دورے پر ابوظبی پہنچے تھے۔دونوں رہنماﺅں نے قصر الوطن میں مذاکرات کئے۔ روس اور امارات کے درمیان تمام شعبوں میں ہر سطح پر تعاون اور دوستی کے رشتوں کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔روسی صدر اور شیخ محمد بن زاید نے علاقائی و بین الاقوامی تبدیلیوں خصوصاً خلیج عرب اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر بات چیت کی۔ سیاسی، اقتصادی و امن و امان کے مسائل زیر بحث آئے۔ اس موقع پر شیخ محمد بن زاید نے کہا ’ امارات اور روس کے تعلقات تاریخی ہیں۔ دونوں کے دوستانہ تعلقات سے تمام شعبوں میں دونوں ملک فائدہ اٹھا رہے ہیں‘۔روس اور امارات نے اقتصادی، ماحولیاتی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے۔ ان کا مقصد امارات اور روس کے درمیان اسٹراٹیجک شراکت کو مضبوط بنانا اور مشترکہ جدوجہد کے نئے افق کھولنا ہے۔روسی صدر پوٹین کا کہنا تھا ’ ماسکو عرب امارات کے ساتھ تعاون کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اوررہے گا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات مسلسل بہتر ہورہے ہیں۔دونوں ملک سیاسی مکالمہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور خطے کی تبدیلیوں کی بابت یکجہتی پیدا کررہے ہیں‘۔