ایران کے پاس کتنے ایٹم بم ہیں اور اسلام ان کے استعما ل کے حوالے سے کیا حکم دیتا ہے؟ایرانی سپریم لیڈر نے بڑا اعلان کر دیا ، امریکہ سمیت پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی

تہران(ویب ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کاکہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال اسلام میں منع ہے۔ایران کے ممتاز دانشوروں اور سائنس دانوں کے ساتھ ملاقات میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی کوئی جوہری ہتھیار بنانے یا بنانے کے بعد اس کے

ممکنہ استعمال کی خواہش نہیں کی کیونکہ ایٹمی ہتھیار تیار کرنا اور اسے ذخیرہ کرنا مذہبی طورپرمنع ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ٹیکنالوجی کی موجودگی کے باوجود جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے ہمیشہ دور رہا۔ ایرانی حکومت ایٹم بم بنانے کی کوشش کے الزامات کو ہمیشہ مسترد کرتی آئی ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شام میں حملے کے لیے ترکی کو امریکا کی جانب سے گرین سگنل دیے جانے کی خبروں کو مسترد کردیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا نے شام میں حملے کے لیے ترکی کو کوئی گرین سگنل نہیں دیاپومپیو نے امریکی صدر ٹرمپ کے شام سے فوجیں واپس بلانے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا جسے دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ترکی کو اس کے جنوب سے دہشتگردی کا خطرہ اور مناسب سیکیورٹی خدشات تھے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کو شام میں حملے کے لیے امریکی اجازت کی خبریں بالکل غلط ہیں، امریکا نے ترکی کو ایسا کوئی گرین سگنل نہیں دیا۔یاد رہے کہ بدھ کے روز ترکی نے شام میں کردوں باغیوں کے زیر تسلط علاقے پر حملہ کیا۔ترک صدر طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد سرحد پر بننے والے دہشتگردی کے راستے کو روکنا تھا۔ترکی کا کہنا ہےکہ اس کا منصوبہ ایک ’محفوظ مقام‘ بنانا اور کرد باغیوں کا صفایا تھا جو شامی مہاجرین کا ٹھکانہ ہوگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی کے آپریشن کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ آپریشن شمالی شام میں مقامی کرد آبادی کی نسل کشی کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔جب کہ کرد باغیوں نے حملے کے خلاف سخت مزاحمت کا اعلان کیا ہے،کرد باغیوں اور ترک افواج کے درمیان تصادم بھی ہوا ہے۔خیال رہے کہ کرد ملیشیا آزاد ملک کے قیام کیلئے سرگرم ہے، عراق میں کردستان کے نام سے ایک خودمختار علاقہ کردوں کو دیا گیا ہے تاہم وہ شام اور ترکی کے کچھ علاقوں کو بھی کردستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جبکہ ترکی کرد ملیشیا کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔2014 میں امریکی صدر باراک اوباما نے پہلی مرتبہ داعش کے خلاف شام میں فضائی آپریشن شروع کیا اور 2015 کے اواخر میں اپنے 50 فوجی بھیج کر شامی خانہ جنگی میں باضابطہ طور پر حصہ لیا۔امریکی فوجی داعش کے خلاف لڑنے کیلئے شامی کردش ملیشیا اور جنگجوؤں کو تربیت دیتے رہے ہیں۔20 دسمبر 2018 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں داعش کو شکست دینے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔