بورس جانسن کو پہلا جھٹکا ۔۔۔ پارلیمنٹ معطل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا

برطانیہ (نیوز ڈیسک ) برطانیہ کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے پانچ ہفتے کے لیے پارلیمنٹ کی معطلی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 11 ججز نے درخواست پرمتفقہ فیصلہ سنا دیا۔برطانوی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ معطلی کا فیصلہ غیر قانونی

تھا۔برطانوی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو جلد دوبارہ بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے برطانیہ میں آئینی بحران پیدا ہو گیا۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اس وقت نیویارک میں موجود ہیں۔ یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملکہ برطانیہ سے پارلیمنٹ معطل کرنے کی درخواست کی تھی، برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بریگزٹ پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، معطلی کے بعد برطانوی پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کرسکے گی، بریگزٹ روکنے کیلیے بھی بل پاس نہیں کیاجاسکے گا بورس جانسن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی معطلی کے بعد ملکہ قوم سے خطاب کریں گی. واضح رہے کہ برطانیہ کی مرکزی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربن نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ بورس جانسن کی حکومت کو گرانے کی بھرپور کوشش کریں گے. جس کے بعد برطانویوزیراعظم بورس جانسن نے ملکہ برطانیہ سے پارلیمنٹ معطل کرنے کی درخواست کی تھی اور ملکہ برطانیہ نے5ہفتوں کیلیے برطانوی پارلیمان معطل کرنے پررضا مندی ظاہرکی تھی۔یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) معاہدے سے قبل برطانوی پارلیمنٹ معطلی سے متعلق وزیراعظم بورس جونسن کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔برطانوی وزیراعظم کے فیصلے سے سیاسی نظام میں ہلچل مچ گئی تھی۔ اپوزیشن رہنما جیریمی کوربن نے حکومتی فیصلے کو ’جمہوریت کے لیے خطرہ‘ قرار دیا تھا۔