جمال خاشقجی کے کیس میں ناقابل یقین پیش رفت ۔۔۔ مزید حیران کن حقائق منظر عام پر آگئے

استنبول(ویب ڈیسک ) سعودی صحافی جمال خاشقجی کی زندگی کے آخری لمحات میں کی گئی مبینہ ریکارڈنگ کی تفصیلات جاری کردی گئیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ترک اخبارکی جانب سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی زندگی کی آخری لمحات کی مبینہ ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے جس میں صحافی کے آخری الفاظ سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صحافی جمال خاشقجی کو کہا گیا تھا کہ انہیں انٹرپول کے حکم کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض واپس جانا ہوگا، جس پران کی جانب سے انکارکردیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق صحافی کے انکارکے بعد انہیں نشہ آورچیزدی گئی تھی۔ترک حکام کے دعوے کے مطابق خاشقجی نے مبینہ طور پر اپنے آخری الفاظ میں اپنے قاتلوں کو اپنا منہ بند نہ کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ انہیں دمے کا مرض لاحق تھا تاہم وہ اس کے بعد اپنے ہوش میں نہیں رہے جب کہ ریکارڈنگ میں مبینہ طورپرہاتھا پائی کی آوازیں بھی موجود ہیں۔واضح رہے کہ صحافی جمال خاشقجی گزشتہ سال 2 اکتوبرکو ضروری کاغذات کے لیے استنبول میں سعودی قونصل خانے گئے تھے اور پھرلاپتہ ہوگئے تھے تاہم عالمی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے جمال خاشقجی کی استنبول کے سعودی قونصل خانے میں موت کی تصدیق کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سعودی قونصلیٹ میں داخل ہونے کے بعد جمال خاشقجی کو بتایا گیا کہ انٹرپول کے حکم کے مطابق انھیں ریاض واپس جانا ہو گا۔خاشقجی نے مبینہ طور پر اس گروپ کے احکامات ماننے سے انکار کیا جس پر انھیں کوئی نشہ آور چیز دی گئی۔خاشقجی نے مبینہ طور پر اپنے آخری الفاظ میں اپنے قاتلوں کو ان کا منہ بند نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ ان کو دمے کا مرض لاحق تھا لیکن اس کے بعد وہ اپنے ہوش میں نہیں رہے۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق خاشقجی کے سر پر تھیلا ڈالا گیا جن سے ان کا دم گھٹ گیا، اس ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر ہاتھا پائی کی آوازیں بھی موجود ہیں۔واضح رہے کہ جمال خاشقجی کی ہلاکت کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہونے کے بارے میں رپورٹس گذشتہ ایک سال سے گردش کر رہی ہیں۔ترک حکام کا دعویٰ رہا ہے کہ یہ آڈیو موجود ہے اور انھوں نے یہ عالمی برادری میں مختلف اہم حکومتوں کو دی بھی ہیں تاہم اب یہ واضح نہیں کہ ترک اخبار کے پاس یہ ریکارڈنگ کہاں سے آئی۔عالمی دباؤ کے باوجود جمال خاشقجی کی لاش ان کی ہلاکت کے ایک سال بعد بھی نہیں ملی ہے۔اس سال کے آغاز میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے کہا تھا کہ جمال خاشقجی کی ہلاکت کی ایک آزادانہ اور غیر جانبدرانہ تفتیش کی ضرورت ہے۔مندوبِ خصوصی اینگز کالمارڈ نے صحافی کی ہلاکت کو ’ایک سوچا سمجھا، منصوبے کے تحت کیا گیا قتل‘ قرار دیا تھا اور ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی ریاست اس کی ذمہ دار ہے۔سعودی حکومت نے ان کی رپورٹ مسترد کر دی اور کئی بار کہا ہے کہ جو ان کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں وہ سرکاری احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے۔